Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کیچھری تھی میرے لیے جو شکن تھی بستر کیSafi Lakhnavi (1862–1950)
  2. جانا جانا جلدی کیا ہے ان باتوں کو جانے دوٹھہرو ٹھہرو دل تو ٹھہرے مجھ کو ہوش میں آنے دوSafi Lakhnavi (1862–1950)
  3. درد آغاز محبت کا اب انجام نہیںزندگی کیا ہے اگر موت کا پیغام نہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
  4. طالب دید پہ آنچ آئے یہ منظور نہیںدل میں ہے ورنہ وہ بجلی جو سر طور نہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
  5. کوئی آباد منزل ہم جو ویراں دیکھ لیتے ہیںبہ حسرت سوئے چرخ فتنہ ساماں دیکھ لیتے ہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
  6. وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہےشب فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہےSafi Lakhnavi (1862–1950)
  7. پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھےمرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھےSafi Lakhnavi (1862–1950)
  8. اردوئے معلیٰSafi Lakhnavi (1862–1950)