Poetry
- تڑپ کے رات بسر کی جو اک مہم سر کیچھری تھی میرے لیے جو شکن تھی بستر کیSafi Lakhnavi (1862–1950)
- جانا جانا جلدی کیا ہے ان باتوں کو جانے دوٹھہرو ٹھہرو دل تو ٹھہرے مجھ کو ہوش میں آنے دوSafi Lakhnavi (1862–1950)
- درد آغاز محبت کا اب انجام نہیںزندگی کیا ہے اگر موت کا پیغام نہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
- طالب دید پہ آنچ آئے یہ منظور نہیںدل میں ہے ورنہ وہ بجلی جو سر طور نہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
- کوئی آباد منزل ہم جو ویراں دیکھ لیتے ہیںبہ حسرت سوئے چرخ فتنہ ساماں دیکھ لیتے ہیںSafi Lakhnavi (1862–1950)
- وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہےشب فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہےSafi Lakhnavi (1862–1950)
- پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھےمرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھےSafi Lakhnavi (1862–1950)
- اردوئے معلیٰSafi Lakhnavi (1862–1950)