Poetry
- بھول جانا تھا تو پھر اپنا بنایا کیوں تھاتم نے الفت کا یقیں مجھ کو دلایا کیوں تھاSaba Afghani (1922–1976)
- راز ہے بہت گہرا بات اک ذرا سی ہےوہ میں سامنے پھر بھی چشم شوق پیاسی ہےSaba Afghani (1922–1976)
- سامنے ان کو پایا تو ہم کھو گئے آج پھر حسرت گفتگو رہ گئیان سے کہنا تھا روداد شام الم دل کی دل ہی میں یہ آرزو رہ گئیSaba Afghani (1922–1976)
- کارواں لٹ گیا راہبر چھٹ گیا رات تاریک ہے غم کا یارا نہیںراہ میں بھی کوئی شمع جلتی نہیں آسماں پر بھی کوئی ستارا نہیںSaba Afghani (1922–1976)
- گلشن کی فقط پھولوں سے نہیں کانٹوں سے بھی زینت ہوتی ہےجینے کے لئے اس دنیا میں غم کی بھی ضرورت ہوتی ہےSaba Afghani (1922–1976)
- لٹا کے راہ محبت میں ہر خوشی میں نےلیا ہے غم کا سہارا ابھی ابھی میں نےSaba Afghani (1922–1976)
- ہوش و خرد سے دور ہوں سود و زیاں سے دورحد نظر سے دور زمان و مکاں سے دورSaba Afghani (1922–1976)