Poetry
- آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہاغافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہاSaadat Saeed (b. 1949)
- مرے ققنسا مرے ققنساوہ جو لاوا تیرے دہن میں تھاSaadat Saeed (b. 1949)
- دھول کی آواز میں جل تھل سمندر گم ہوئےدربند چہرے مسخSaadat Saeed (b. 1949)
- سر زمین تمنا کی مٹی سلاخیں اگانے لگی ہےگرفتار ہونے کا موسمSaadat Saeed (b. 1949)
- شام ہنگام تو ہم ہےتصور کے کھٹولوں پہ سجیSaadat Saeed (b. 1949)
- عظیم قاتل گئے زمانوں کے مخفی اوہام کے شکنجوں میںسادہ لوحی کے سکہ سکہ بکاؤ گاہکSaadat Saeed (b. 1949)
- مرے ساتھ سانسوں کی صورتوہ تاریخ کے سارے اوراق میں جاگتا ہےSaadat Saeed (b. 1949)
- میں نوحہ لکھتا ہوں اپنے خلیوں کے چھلنی خوابوں اےسر زمین ہوس میں پھیلے سراب آسا کھلے گلابوں کاSaadat Saeed (b. 1949)