Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ابھی سے مت کہو دل کا خلل جاوے تو بہتر ہےیہ راہ عشق ہے یہاں دم نکل جاوے تو بہتر ہےرجب علی بیگ سرور
  2. اس طرح آہ کل ہم اس انجمن سے نکلےفصل بہار میں جوں بلبل چمن سے نکلےرجب علی بیگ سرور
  3. ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کاجا بجا شہر میں چرچا ہوا رسوائی کارجب علی بیگ سرور
  4. فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑےباغباں غیب کا اس کا وہیں پھر سر توڑےرجب علی بیگ سرور
  5. قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنےمصحف اٹھا لوں صاحب قرآں کے سامنےرجب علی بیگ سرور
  6. کروں شکوہ نہ کیوں چرخ کہن سےکہ فرقت ڈالی تجھ سے گل بدن سےرجب علی بیگ سرور
  7. کس طرح پر ایسے بد خو سے صفائی کیجیےجس کی طینت میں یہی ہو کج ادائی کیجیےرجب علی بیگ سرور
  8. کیا غضب ہے کہ چار آنکھوں میںدل چراتا ہے یار آنکھوں میںرجب علی بیگ سرور
  9. لازم ہے سوز عشق کا شعلہ عیاں نہ ہوجل بجھیے اس طرح سے کہ مطلق دھواں نہ ہورجب علی بیگ سرور
  10. مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیںاگرچہ صبح کو یہ بچ گیا تو شام نہیںرجب علی بیگ سرور
  11. ناصحا فائدہ کیا ہے تجھے بہکانے سےکار ہشیار کہیں بھی ہوا دیوانے سےرجب علی بیگ سرور
  12. یوں جو ڈھونڈو تو یہاں شہر میں عنقا نکلےچاہنے والا جو چاہو تو نا اصلا نکلےرجب علی بیگ سرور