Poetry
- ابھی سے مت کہو دل کا خلل جاوے تو بہتر ہےیہ راہ عشق ہے یہاں دم نکل جاوے تو بہتر ہےرجب علی بیگ سرور
- اس طرح آہ کل ہم اس انجمن سے نکلےفصل بہار میں جوں بلبل چمن سے نکلےرجب علی بیگ سرور
- ترک جس دن سے کیا ہم نے شکیبائی کاجا بجا شہر میں چرچا ہوا رسوائی کارجب علی بیگ سرور
- فصل گل میں جو کوئی شاخ صنوبر توڑےباغباں غیب کا اس کا وہیں پھر سر توڑےرجب علی بیگ سرور
- قرآں کتاب ہے رخ جاناں کے سامنےمصحف اٹھا لوں صاحب قرآں کے سامنےرجب علی بیگ سرور
- کروں شکوہ نہ کیوں چرخ کہن سےکہ فرقت ڈالی تجھ سے گل بدن سےرجب علی بیگ سرور
- کس طرح پر ایسے بد خو سے صفائی کیجیےجس کی طینت میں یہی ہو کج ادائی کیجیےرجب علی بیگ سرور
- کیا غضب ہے کہ چار آنکھوں میںدل چراتا ہے یار آنکھوں میںرجب علی بیگ سرور
- لازم ہے سوز عشق کا شعلہ عیاں نہ ہوجل بجھیے اس طرح سے کہ مطلق دھواں نہ ہورجب علی بیگ سرور
- مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیںاگرچہ صبح کو یہ بچ گیا تو شام نہیںرجب علی بیگ سرور
- ناصحا فائدہ کیا ہے تجھے بہکانے سےکار ہشیار کہیں بھی ہوا دیوانے سےرجب علی بیگ سرور
- یوں جو ڈھونڈو تو یہاں شہر میں عنقا نکلےچاہنے والا جو چاہو تو نا اصلا نکلےرجب علی بیگ سرور