Poetry
- اور تڑپائے مجھے درد جگر آج کی راتکل وہ آئیں گے نہیں آئے اگر آج کی راتراجہ نوشاد علی خان
- حضور داور محشر قیامت خیز ساماں تھاہزاروں ہاتھ تھے اور ایک قاتل کا گریباں تھاراجہ نوشاد علی خان
- دل رقیب تو دیکھا مرا جگر دیکھیںادھر کے دیکھنے والے ذرا ادھر دیکھیںراجہ نوشاد علی خان
- شب وصل روٹھا ہے دلبر کسی کانہ یوں بن کے بگڑے مقدر کسی کاراجہ نوشاد علی خان
- کس طرح چین سے دم بھر شب فرقت میں رہےہائے وہ دل جو ترے وصل کی حسرت میں رہےراجہ نوشاد علی خان
- کیا ترے دل میں اے بت ہوں دل و جاں محفوظنہ کوئی دین ہے محفوظ نہ ایماں محفوظراجہ نوشاد علی خان
- ماہ اچھا ہے کہ وہ بدر کمال اچھا ہےدیکھنا ہے یہ ہمیں کس کا جمال اچھا ہےراجہ نوشاد علی خان
- یوں تڑپتے ہوئے نوشادؔ وطن سے نکلےجس طرح بلبل بیتاب چمن سے نکلےراجہ نوشاد علی خان
- خواب میں وہ مرے آغوش میں آ جاتا ہےمیری سوتی ہوئی تقدیر جگا جاتا ہےراجہ نوشاد علی خان
- دل کو تسکیں ہو گئی ہے سامنے آنے کے بعدجان جائے گی ہماری آپ کے جانے کے بعدراجہ نوشاد علی خان
- زاہد بھی میری طرح اسی پر فدا نہ ہوکعبہ کے پردے میں بت کافر چھپا نہ ہوراجہ نوشاد علی خان
- وہ اٹھ کر قیامت اٹھانا کسی کاوہ دل تھام کر بیٹھ جانا کسی کاراجہ نوشاد علی خان