Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اور تڑپائے مجھے درد جگر آج کی راتکل وہ آئیں گے نہیں آئے اگر آج کی راتراجہ نوشاد علی خان
  2. حضور داور محشر قیامت خیز ساماں تھاہزاروں ہاتھ تھے اور ایک قاتل کا گریباں تھاراجہ نوشاد علی خان
  3. دل رقیب تو دیکھا مرا جگر دیکھیںادھر کے دیکھنے والے ذرا ادھر دیکھیںراجہ نوشاد علی خان
  4. شب وصل روٹھا ہے دلبر کسی کانہ یوں بن کے بگڑے مقدر کسی کاراجہ نوشاد علی خان
  5. کس طرح چین سے دم بھر شب فرقت میں رہےہائے وہ دل جو ترے وصل کی حسرت میں رہےراجہ نوشاد علی خان
  6. کیا ترے دل میں اے بت ہوں دل و جاں محفوظنہ کوئی دین ہے محفوظ نہ ایماں محفوظراجہ نوشاد علی خان
  7. ماہ اچھا ہے کہ وہ بدر کمال اچھا ہےدیکھنا ہے یہ ہمیں کس کا جمال اچھا ہےراجہ نوشاد علی خان
  8. یوں تڑپتے ہوئے نوشادؔ وطن سے نکلےجس طرح بلبل بیتاب چمن سے نکلےراجہ نوشاد علی خان
  9. خواب میں وہ مرے آغوش میں آ جاتا ہےمیری سوتی ہوئی تقدیر جگا جاتا ہےراجہ نوشاد علی خان
  10. دل کو تسکیں ہو گئی ہے سامنے آنے کے بعدجان جائے گی ہماری آپ کے جانے کے بعدراجہ نوشاد علی خان
  11. زاہد بھی میری طرح اسی پر فدا نہ ہوکعبہ کے پردے میں بت کافر چھپا نہ ہوراجہ نوشاد علی خان
  12. وہ اٹھ کر قیامت اٹھانا کسی کاوہ دل تھام کر بیٹھ جانا کسی کاراجہ نوشاد علی خان