Poetry
- بے نقاب ان کی جفاؤں کو کیا ہے میں نےوقت کے ہاتھ میں آئینہ دیا ہے میں نےQamar Moradabadi (1910–1987)
- تم اسی کو وجہ طرب کہو ہم اسی کو باعث غم کہیںوہی اک فسانۂ عشق ہے کبھی تم کہو کبھی ہم کہیںQamar Moradabadi (1910–1987)
- ساقیا طنز نہ کر چشم کرم رہنے دےمیرے ساغر میں اگر کم ہے تو کم رہنے دےQamar Moradabadi (1910–1987)
- لذت درد جگر یاد آئیپھر تری پہلی نظر یاد آئیQamar Moradabadi (1910–1987)
- محبت کا جہاں ہے اور میں ہوںمرا دار الاماں ہے اور میں ہوںQamar Moradabadi (1910–1987)
- منزلوں کے نشاں نہیں ملتےتم اگر ناگہاں نہیں ملتےQamar Moradabadi (1910–1987)
- میری راہوں میں کئی مرحلے دشوار آئےدیر آیا حرم آیا رسن و دار آئےQamar Moradabadi (1910–1987)
- نظر ہے جلوۂ جاناں ہے دیکھیے کیا ہوشکست عشق کا امکاں ہے دیکھیے کیا ہوQamar Moradabadi (1910–1987)
- جس قدر جذب محبت کا اثر ہوتا گیاعشق خود ترک و طلب سے بے خبر ہوتا گیاQamar Moradabadi (1910–1987)
- غم کی توہین نہ کر غم کی شکایت کر کےدل رہے یا نہ رہے عظمت غم رہنے دےQamar Moradabadi (1910–1987)