Poetry
- ابلتے پانیوں میں ہوں کہاں ابال کی طرحمیں آج بھی ہوں تہہ نشیں گزشتہ سال کی طرحQaisar Shameem (1936–2021)
- ایک پودا جو اگا ہے اسے پانی دینااپنے آنگن کو نئی رت کی کہانی دیناQaisar Shameem (1936–2021)
- تھوڑی سی شہرت بھی ملی ہے تھوڑی سی بدنامی بھیمیری سیرت میں اے قیصرؔ خوبی بھی ہے خامی بھیQaisar Shameem (1936–2021)
- سلگ رہی ہے زمیں یا سپہر آنکھوں میںدھواں دھواں سا ہے کیوں تیرا شہر آنکھوں میںQaisar Shameem (1936–2021)
- شکستہ خواب کے ملبے میں ڈھونڈھتا کیا ہےکھنڈر کھنڈر ہے یہاں دھول کے سوا کیا ہےQaisar Shameem (1936–2021)
- کہاں ہے کوئی خدا کا خدا کے بندوں میںگھرا ہوا ہوں ابھی تک انا کے بندوں میںQaisar Shameem (1936–2021)
- موسم تو بدلتے ہیں لیکن کیا گرم ہوا کیا سرد ہوااے دوست ہمارے آنگن میں رہتی ہے ہمیشہ زرد ہواQaisar Shameem (1936–2021)
- میں مسافر صبا کی راہوں کابوجھ اٹھائے ہوئے گناہوں کاQaisar Shameem (1936–2021)
- وہ جو سب کا بہت چہیتا تھاقبر کی ساعتوں میں تنہا تھاQaisar Shameem (1936–2021)
- ہونے لگے ہیں رستے رستے، آپس کے ٹکراؤ بہتایک ساتھ کے چلنے والوں میں بھی ہے الگاؤ بہتQaisar Shameem (1936–2021)
- ساز سے میرے غلط نغموں کی امید نہ کرآگ کی آگ ہے دل میں تو دھواں کیوں کر ہوQaisar Shameem (1936–2021)
- سبز موسم سے مجھے کیا لیناشاخ سے اپنی جدا ہوں باباQaisar Shameem (1936–2021)
- کسی منزل میں بھی حاصل نہ ہوا دل کو قرارزندگی خواہش ناکام ہی کرتے گزریQaisar Shameem (1936–2021)
- موسم عجیب رہتا ہے دل کے دیار کاآگے ہیں لو کے جھونکے بھی ٹھنڈی ہوا کے بعدQaisar Shameem (1936–2021)