Poetry
- ایجاد غم ہوا دل مضطر کے واسطےپیدا جنوں ہوا ہے مرے سر کے واسطےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- پھل ہے اس بت کی آشنائی کامجھ کو دعویٰ ہے اب خدائی کامنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- دل تنگ اس میں رنج و الم شور و شر ہوں جمعچین آئے خاک گھر میں جب اتنے ضرر ہوں جمعمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- سبحہ سے مطلب نہ کچھ زنار سےہیں جدا ہم کافر و دیں دار سےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- سر ملا ہے عشق کا سودا سمانے کے لئےآنکھیں دیں انسان کو آنسو بہانے کے لئےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- قاتل کے کوچہ میں ہمہ تن جاؤں بن کے پاؤںمر کر ہی تاکہ سو تو ذرا پاؤں تن کے پاؤںمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- کچھ غرض وجہ مدعا باعثکیوں خفا ہو گئے ہو کیا باعثمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- کہیں کیا کہ کیا کیا ستم دیکھتے ہیںلکھا ہے جو قسمت میں ہم دیکھتے ہیںمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- وصل سے تب بھرے ہمارا پیٹپیٹ سے جب ملے تمہارا پیٹمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- ہوش و شکیب و تاب و صبر و قرار پانچوںقربان کر چکا ہوں میں تجھ پہ یار پانچوںمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی
- زینت عنواں ہے مضموں عالم توحید کایہ سواد نامہ ہے یا سرمۂ تسخیر ہےمنشی دیبی پرشاد سحر بدایونی