Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتامجھے معلوم ہے میری خوشی سے کچھ نہیں ہوتامخمور دہلوی
  2. دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتیوہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتیمخمور دہلوی
  3. دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتاجہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتامخمور دہلوی
  4. رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرفآنے والے آ رہے ہیں اپنی منزل کی طرفمخمور دہلوی
  5. کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتایہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتامخمور دہلوی
  6. ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہےخیال پست نہ ہو حوصلہ بلند رہےمخمور دہلوی
  7. یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتےترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتےمخمور دہلوی
  8. تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگیجسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیںمخمور دہلوی