Poetry
- خدا جب تک نہ چاہے آدمی سے کچھ نہیں ہوتامجھے معلوم ہے میری خوشی سے کچھ نہیں ہوتامخمور دہلوی
- دلائل سے خدا تک عقل انسانی نہیں جاتیوہ اک ایسی حقیقت ہے جو پہچانی نہیں جاتیمخمور دہلوی
- دوئی کا تذکرہ توحید میں پایا نہیں جاتاجہاں میری رسائی ہے مرا سایا نہیں جاتامخمور دہلوی
- رخ ہر اک تیر نظر کا ہے مرے دل کی طرفآنے والے آ رہے ہیں اپنی منزل کی طرفمخمور دہلوی
- کسے اپنا بنائیں کوئی اس قابل نہیں ملتایہاں پتھر بہت ملتے ہیں لیکن دل نہیں ملتامخمور دہلوی
- ہزار رنج ہو دل لاکھ درد مند رہےخیال پست نہ ہو حوصلہ بلند رہےمخمور دہلوی
- یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتےترے کوچے سے اٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتےمخمور دہلوی
- تم سے وابستہ ہے میری موت میری زندگیجسم سے اپنے کبھی سایہ جدا ہوتا نہیںمخمور دہلوی