Poetry
- باغ میں آمد بہار ہے آجچشم نرگس کو انتظار ہے آجمیر مظفر حسین ضمیر
- بستر نرم پر وہ سوتا ہےیاں پس خیمہ کوئی روتا ہےمیر مظفر حسین ضمیر
- جب تک کہ تو جلوہ گر نہ ہووےمیری شب غم سحر نہ ہووےمیر مظفر حسین ضمیر
- جب کہ فرقت میں موت آتی ہےحسرت وصل ساتھ جاتی ہےمیر مظفر حسین ضمیر
- چشم کو شوق اشک باری ہےچشمۂ فیض ہے کہ جاری ہےمیر مظفر حسین ضمیر
- حالت مری جب اس کو دگر گوں نظر آئیاوروں کی تو کیا چشم مسیحا کی بھر آئیمیر مظفر حسین ضمیر
- سب شکایت ہے زندگانی کیجان نے دشمنیٔ جانی کیمیر مظفر حسین ضمیر
- صدمے سے شب ہجر کے کب جان بر آئییہ شام نہیں آئی قضا ہی مگر آئیمیر مظفر حسین ضمیر
- ہم رہے یاں تلک ترے غم میںکہ ترا غم سما گیا ہم میںمیر مظفر حسین ضمیر
- کس نور کی مجلس میں مری جلوہ گری ہےجس نور سے پر نور یہ نور نظری ہےمیر مظفر حسین ضمیر