Poetry
- اپنی پلکوں سے جو ٹوٹے ہیں گہر دیکھتے ہیںہم دعا مانگتے ہیں اور اثر دیکھتے ہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
- اس کی آنکھوں میں اک سوال سا تھامیرے دل میں کوئی ملال سا تھاMah Talat Zahidi (1953–2020)
- اک پرندہ سر دیوار بھی باقی نہ رہااب تو پرواز کا دیدار بھی باقی نہ رہاMah Talat Zahidi (1953–2020)
- بے کہے بے سنے خدا حافظجو بھی گزرے اسے خدا حافظMah Talat Zahidi (1953–2020)
- تم بن وقت یہ کیسا گزرااشکوں کا اک دریا گزراMah Talat Zahidi (1953–2020)
- قبر پہ پھول کھلا آہستہزخم سے خون بہا آہستہMah Talat Zahidi (1953–2020)
- وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتادل ڈوب چلا صبح کا تارا نہیں ملتاMah Talat Zahidi (1953–2020)
- ابھی تو فٹ پاتھ کے مکینوں کی قسمتوں میںگھروں کے سپنے ہیں نامکملMah Talat Zahidi (1953–2020)
- تجھے چھو کر بہار آئی تھیکنج غم میں برسا تھاMah Talat Zahidi (1953–2020)
- راگ ڈوب جاتے ہیںساز ٹوٹ جاتے ہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
- روز و شبحلقۂ آفات ہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
- ہر ایک رات کے پہلو سے دن نکلتا ہےوہ لوگ کیسے سنور جائیں جو تباہ نہیںMah Talat Zahidi (1953–2020)
- یاد کے خوش نما جزیروں میںدل کی آوارگی سی رہتی ہےMah Talat Zahidi (1953–2020)