Poetry
- الا یا شاہ خوباں کیجیے شادہوئے جاتے ہیں عاشق غم سے بربادMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- اے دل زار لکھو جانب جاناں کاغذحال کا لکھتے ہیں فقرا سوئے سلطاں کاغذMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- بس تمنا ہے عشق مولیٰ میںکہ مروں میں یہی تمنا میںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- تندرستوں میں نہ بیماروں کے بیچعشق کے ہوں میں دل افگاروں کے بیچMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- دودمان درد کی شادی ہیں ہمخاندان غم کی آبادی ہیں ہمMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- شعلوں سے محبت کی مری جاں میں لگی آگپھر جاں سے بھڑک جسم کے میداں میں لگی آگMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- عاشق ہے جو تمہارے رخ سرخ رنگ کارہتا ہے اس کو نشہ شراب فرنگ کاMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- نہ ملا ہوں نہ مفتی ہوں نہ واعظ ہوں نہ قاضی ہوںگنہ گار و خطا کار و رضائے حق پہ راضی ہوںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- نے امیروں میں نے وزیروں میںعشق کے ہم تو ہیں فقیروں میںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- آج کل جو کثرت شوریدگان عشق ہےروز ہوتے جاتے ہیں حداد نوکر سیکڑوںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- آج مسجد میں نظر آتا تو ہے میکش مگرمطلب اس کا بیچنا ہے شیخ کی دستار کاMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- اپنے بھی عشق کو زوال نہ ہونہ تمہارے جمال کو ہے کمالMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- اگر سمجھو نماز زاہد مغرور یاروہزاروں بار بہتر تر ہماری بے نمازی ہےMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- پوجتا ہوں کبھی بت کو کبھی پڑھتا ہوں نمازمیرا مذہب کوئی ہندو نہ مسلماں سمجھاMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- تخم ریحاں کھلا طبیب مجھےیعنی ہوں میں مریض حضرت خالMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- جاں بلب دم بھر کا ہوں مہمان یارایک بوسہ میری مہمانی کروMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- چھوٹتا ہے ایک تو پھنستے ہیں آ کر اس میں دوآج کل ہے گرم تر کیا خوب بازار قفسMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- خط دیکھ کر مرا مرے قاصد سے یوں کہاکیا گل نہیں ہوا وہ چراغ سحر ہنوزMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- دیتا ہے روز روز دلاسے نئے نئےکس طرح اعتبار ہو حافظؔ کے فال پرMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- دیکھ کر ہاتھ میں تسبیح گلے میں زنارمجھ سے بیزار ہوئے کافر و دیں دار جداMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- رخسار کا دے شرط نہیں بوسۂ لب سےجو جی میں ترے آئے سو دے یار مگر دےMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- عمر دو چار روز مہماں ہےخدمت مہماں کروں نہ کروںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- ہاتھ کا بازو کا گردن کا کمر کا کس کےہم کو تعویذوں میں یہی چار ہی بھائے تعویذMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
- ہندو بچہ نے چھین کے دل مجھ سے یوں کہاہندوستاں بھی کشور ترکاں سے کم نہیںMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)