Poetry
- در پردہ ستم ہم پہ وہ کر جاتے ہیں کیسےگر کیجے گلہ صاف مکر جاتے ہیں کیسےکرامت علی شہیدی
- مشام بلبل میں رشک گل کی ہنوز بو بھی نہیں گئی ہےابھی وہ نام خدا ہے غنچہ نسیم چھو بھی نہیں گئی ہےکرامت علی شہیدی
- منزل سفر عشق کی زنہار نہ ٹوٹےجب تک کمر قافلہ سالار نہ ٹوٹےکرامت علی شہیدی
- ہزار مرتبہ دیکھا ستم جدائی کاہنوز حوصلہ باقی ہے آشنائی کاکرامت علی شہیدی
- جی چاہے گا جس کو اسے چاہا نہ کریں گےہم عشق و ہوس کو کبھی یکجا نہ کریں گےکرامت علی شہیدی