Poetry
- درد اب دل کی دوا ہو جیسےزندگی ایک سزا ہو جیسےIftikhar Aazmi (1935–1977)
- رہ وفا سے میں اک گام بھی ہٹا تو نہیںلہولہان ہوا ہوں مگر ڈرا تو نہیںIftikhar Aazmi (1935–1977)
- شور دریائے وفا عشرت ساحل کے قریبرک گئے اپنے قدم آئے جو منزل کے قریبIftikhar Aazmi (1935–1977)
- مقتل کے اس سکوت پہ حیرت ہے کیا کہیںایسی فضا تو ہو کہ جسے کربلا کہیںIftikhar Aazmi (1935–1977)
- شام جب ڈھلتی ہے میں اپنے خرابے کی طرفلوٹتا ہوں سرنگوں، بوجھل قدمIftikhar Aazmi (1935–1977)
- وہ لمحہوہ پر شوق و پرسوز لمحہIftikhar Aazmi (1935–1977)
- اس شہر میں شام ہوتے ہی گلیوں کے نکڑ پرسڑکوں کے کنارے زندہ دل لوگIftikhar Aazmi (1935–1977)
- بند آنکھیں کیے سر ساحلکل سحر دم یہ سوچتا تھا میںIftikhar Aazmi (1935–1977)
- دشت گرم و سرد میں یہ بے دیاروں کا ہجومبے خبر ماحول سےIftikhar Aazmi (1935–1977)
- دنیا ایک کنواری ماں ہےہم سب ہیں ناجائز بچےIftikhar Aazmi (1935–1977)
- زمانے کے صحرا میں گلے سے بچھڑی ہوئی بھیڑتنہا پشیماں ہراساں ہراساںIftikhar Aazmi (1935–1977)
- میری آنکھوں میں ہے بے خوابی کے نشتر چبھنہر طرف تیرہ شبی، ہر طرف ایک گھٹنIftikhar Aazmi (1935–1977)