Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. درد اب دل کی دوا ہو جیسےزندگی ایک سزا ہو جیسےIftikhar Aazmi (1935–1977)
  2. رہ وفا سے میں اک گام بھی ہٹا تو نہیںلہولہان ہوا ہوں مگر ڈرا تو نہیںIftikhar Aazmi (1935–1977)
  3. شور دریائے وفا عشرت ساحل کے قریبرک گئے اپنے قدم آئے جو منزل کے قریبIftikhar Aazmi (1935–1977)
  4. مقتل کے اس سکوت پہ حیرت ہے کیا کہیںایسی فضا تو ہو کہ جسے کربلا کہیںIftikhar Aazmi (1935–1977)
  5. شام جب ڈھلتی ہے میں اپنے خرابے کی طرفلوٹتا ہوں سرنگوں، بوجھل قدمIftikhar Aazmi (1935–1977)
  6. وہ لمحہوہ پر شوق و پرسوز لمحہIftikhar Aazmi (1935–1977)
  7. اس شہر میں شام ہوتے ہی گلیوں کے نکڑ پرسڑکوں کے کنارے زندہ دل لوگIftikhar Aazmi (1935–1977)
  8. بند آنکھیں کیے سر ساحلکل سحر دم یہ سوچتا تھا میںIftikhar Aazmi (1935–1977)
  9. دشت گرم و سرد میں یہ بے دیاروں کا ہجومبے خبر ماحول سےIftikhar Aazmi (1935–1977)
  10. دنیا ایک کنواری ماں ہےہم سب ہیں ناجائز بچےIftikhar Aazmi (1935–1977)
  11. زمانے کے صحرا میں گلے سے بچھڑی ہوئی بھیڑتنہا پشیماں ہراساں ہراساںIftikhar Aazmi (1935–1977)
  12. میری آنکھوں میں ہے بے خوابی کے نشتر چبھنہر طرف تیرہ شبی، ہر طرف ایک گھٹنIftikhar Aazmi (1935–1977)