Poetry
- آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیںسامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیںحیرت الہ آبادی
- بوسہ لیا جو چشم کا بیمار ہو گئےزلفیں چھوئیں بلا میں گرفتار ہو گئےحیرت الہ آبادی
- سنا ہے زخمی تیغ نگہ کا دم نکلتا ہےترا ارمان لے اے قاتل عالم نکلتا ہےحیرت الہ آبادی
- کسی محاذ پہ وہ بولنے نہیں دیتاضرورتاً بھی زباں کھولنے نہیں دیتاحیرت الہ آبادی
- یہ محو ہوئے دیکھ کے بے ساختہ پن کوآئینے میں خود چوم لیا اپنے دہن کوحیرت الہ آبادی