Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آباد رہیں گے ویرانے شاداب رہیں گی زنجیریںجب تک دیوانے زندہ ہیں پھولیں گی پھلیں گی زنجیریںHafeez Merathi (1922–2000)
  2. اس دیوانے دل کو دیکھو کیا شیوہ اپنائے ہےاس پر ہی وشواس کرے ہے جس سے دھوکہ کھائے ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  3. اے دل خوشی کا ذکر بھی کرنے نہ دے مجھےغم کی بلندیوں سے اترنے نہ دے مجھےHafeez Merathi (1922–2000)
  4. باد صبا یہ ظلم خدارا نہ کیجیواس بے وفا سے ذکر ہمارا نہ کیجیوHafeez Merathi (1922–2000)
  5. بڑے ادب سے غرور ستمگراں بولاجب انقلاب کے لہجے میں بے زباں بولاHafeez Merathi (1922–2000)
  6. بزم تکلفات سجانے میں رہ گیامیں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیاHafeez Merathi (1922–2000)
  7. بے سہاروں کا انتظام کرویعنی اک اور قتل عام کروHafeez Merathi (1922–2000)
  8. پی کر چین اگر آیا بھی کتنی دیر کو آئے گانشہ اک آوارہ پنچھی چہکے گا اڑ جائے گاHafeez Merathi (1922–2000)
  9. تمام رات آنسوؤں سے غم اجالتا رہامیں غم اجال اجال کر خوشی میں ڈھالتا رہاHafeez Merathi (1922–2000)
  10. چاہے تن من سب جل جائےسوز دروں پر آنچ نہ آئےHafeez Merathi (1922–2000)
  11. ستم کی تیغ یہ کہتی ہے سر نہ اونچا کرپکارتی ہے بلندی کہ زندگی ہے ادھرHafeez Merathi (1922–2000)
  12. کون کہتا ہے کہ محرومی کا شکوہ نہ کروہاں مگر ساقئ مے خانہ کو رسوا نہ کروHafeez Merathi (1922–2000)
  13. لہو سے اپنے زمیں لالہ زار دیکھتے تھےبہار دیکھنے والے بہار دیکھتے تھےHafeez Merathi (1922–2000)
  14. اب کھل کے کہو بات تو کچھ بات بنے گییہ دور اشارات و کنایات نہیں ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  15. ابھی سے ہوش اڑے مصلحت پرستوں کےابھی میں بزم میں آیا ابھی کہاں بولاHafeez Merathi (1922–2000)
  16. اک اجنبی کے ہاتھ میں دے کر ہمارا ہاتھلو ساتھ چھوڑنے لگا آخر یہ سال بھیHafeez Merathi (1922–2000)
  17. بد تر ہے موت سے بھی غلامی کی زندگیمر جائیو مگر یہ گوارا نہ کیجیوHafeez Merathi (1922–2000)
  18. رات کو رات کہہ دیا میں نےسنتے ہی بوکھلا گئی دنیاHafeez Merathi (1922–2000)
  19. رسا ہوں یا نہ ہوں نالے یہ نالوں کا مقدر ہےحفیظؔ آنسو بہا کر جی تو ہلکا کر لیا میں نےHafeez Merathi (1922–2000)
  20. رنگ آنکھوں کے لیے بو ہے دماغوں کے لیےپھول کو ہاتھ لگانے کی ضرورت کیا ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  21. شیخ قاتل کو مسیحا کہہ گئےمحترم کی بات کو جھٹلائیں کیاHafeez Merathi (1922–2000)
  22. صرف زباں کی نقالی سے بات نہ بن پائے گی حفیظؔدل پر کاری چوٹ لگے تو میرؔ کا لہجہ آئے ہےHafeez Merathi (1922–2000)
  23. کیا جانے کیا سبب ہے کہ جی چاہتا ہے آجروتے ہی جائیں سامنے تم کو بٹھا کے ہمHafeez Merathi (1922–2000)
  24. محبت چیخ بھی خاموشی بھی نغمہ بھی نعرہ بھییہ اک مضمون ہے کتنے ہی عنوانوں سے وابستہHafeez Merathi (1922–2000)
  25. ہر سہارا بے عمل کے واسطے بیکار ہےآنکھ ہی کھولے نہ جب کوئی اجالا کیا کرےHafeez Merathi (1922–2000)
  26. یہ بھی تو سوچئے کبھی تنہائی میں ذرادنیا سے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیا دیاHafeez Merathi (1922–2000)