Poetry
- آباد رہیں گے ویرانے شاداب رہیں گی زنجیریںجب تک دیوانے زندہ ہیں پھولیں گی پھلیں گی زنجیریںHafeez Merathi (1922–2000)
- اس دیوانے دل کو دیکھو کیا شیوہ اپنائے ہےاس پر ہی وشواس کرے ہے جس سے دھوکہ کھائے ہےHafeez Merathi (1922–2000)
- اے دل خوشی کا ذکر بھی کرنے نہ دے مجھےغم کی بلندیوں سے اترنے نہ دے مجھےHafeez Merathi (1922–2000)
- باد صبا یہ ظلم خدارا نہ کیجیواس بے وفا سے ذکر ہمارا نہ کیجیوHafeez Merathi (1922–2000)
- بڑے ادب سے غرور ستمگراں بولاجب انقلاب کے لہجے میں بے زباں بولاHafeez Merathi (1922–2000)
- بزم تکلفات سجانے میں رہ گیامیں زندگی کے ناز اٹھانے میں رہ گیاHafeez Merathi (1922–2000)
- بے سہاروں کا انتظام کرویعنی اک اور قتل عام کروHafeez Merathi (1922–2000)
- پی کر چین اگر آیا بھی کتنی دیر کو آئے گانشہ اک آوارہ پنچھی چہکے گا اڑ جائے گاHafeez Merathi (1922–2000)
- تمام رات آنسوؤں سے غم اجالتا رہامیں غم اجال اجال کر خوشی میں ڈھالتا رہاHafeez Merathi (1922–2000)
- چاہے تن من سب جل جائےسوز دروں پر آنچ نہ آئےHafeez Merathi (1922–2000)
- ستم کی تیغ یہ کہتی ہے سر نہ اونچا کرپکارتی ہے بلندی کہ زندگی ہے ادھرHafeez Merathi (1922–2000)
- کون کہتا ہے کہ محرومی کا شکوہ نہ کروہاں مگر ساقئ مے خانہ کو رسوا نہ کروHafeez Merathi (1922–2000)
- لہو سے اپنے زمیں لالہ زار دیکھتے تھےبہار دیکھنے والے بہار دیکھتے تھےHafeez Merathi (1922–2000)
- اب کھل کے کہو بات تو کچھ بات بنے گییہ دور اشارات و کنایات نہیں ہےHafeez Merathi (1922–2000)
- ابھی سے ہوش اڑے مصلحت پرستوں کےابھی میں بزم میں آیا ابھی کہاں بولاHafeez Merathi (1922–2000)
- اک اجنبی کے ہاتھ میں دے کر ہمارا ہاتھلو ساتھ چھوڑنے لگا آخر یہ سال بھیHafeez Merathi (1922–2000)
- بد تر ہے موت سے بھی غلامی کی زندگیمر جائیو مگر یہ گوارا نہ کیجیوHafeez Merathi (1922–2000)
- رات کو رات کہہ دیا میں نےسنتے ہی بوکھلا گئی دنیاHafeez Merathi (1922–2000)
- رسا ہوں یا نہ ہوں نالے یہ نالوں کا مقدر ہےحفیظؔ آنسو بہا کر جی تو ہلکا کر لیا میں نےHafeez Merathi (1922–2000)
- رنگ آنکھوں کے لیے بو ہے دماغوں کے لیےپھول کو ہاتھ لگانے کی ضرورت کیا ہےHafeez Merathi (1922–2000)
- شیخ قاتل کو مسیحا کہہ گئےمحترم کی بات کو جھٹلائیں کیاHafeez Merathi (1922–2000)
- صرف زباں کی نقالی سے بات نہ بن پائے گی حفیظؔدل پر کاری چوٹ لگے تو میرؔ کا لہجہ آئے ہےHafeez Merathi (1922–2000)
- کیا جانے کیا سبب ہے کہ جی چاہتا ہے آجروتے ہی جائیں سامنے تم کو بٹھا کے ہمHafeez Merathi (1922–2000)
- محبت چیخ بھی خاموشی بھی نغمہ بھی نعرہ بھییہ اک مضمون ہے کتنے ہی عنوانوں سے وابستہHafeez Merathi (1922–2000)
- ہر سہارا بے عمل کے واسطے بیکار ہےآنکھ ہی کھولے نہ جب کوئی اجالا کیا کرےHafeez Merathi (1922–2000)
- یہ بھی تو سوچئے کبھی تنہائی میں ذرادنیا سے ہم نے کیا لیا دنیا کو کیا دیاHafeez Merathi (1922–2000)