Poetry
- اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرےجان پر نت نئی آفت ہے خدا خیر کرےغلام بھیک نیرنگ
- کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگیزندگی سی زندگی ہے یہ ہماری زندگیغلام بھیک نیرنگ
- کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سےان کو فرصت ہی نہیں ہے کاروبار ناز سےغلام بھیک نیرنگ
- کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتیہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتیغلام بھیک نیرنگ
- مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کررہ گیا شوق دل زار میں ارماں ہو کرغلام بھیک نیرنگ
- پھر وہی ہم ہیں خیال رخ زیبا ہے وہیسر شوریدہ وہی عشق کا سودا ہے وہیغلام بھیک نیرنگ
- کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہودن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہوغلام بھیک نیرنگ
- مقصود الفتغلام بھیک نیرنگ
- انسان کی فریادغلام بھیک نیرنگ