Poetry
- آنکھوں میں بسے ہو تم آنکھوں میں عیاں ہو کردل ہی میں نہ رہ جاؤ آنکھوں سے نہاں ہو کرفرحت کانپوری
- اک خلش سی ہے مجھے تقدیر سےالاماں اس خار دامن گیر سےفرحت کانپوری
- ترا جلوہ شام و سحر دیکھتے ہیںسلیقے سے شمس و قمر دیکھتے ہیںفرحت کانپوری
- جو کچھ بھی ہے نظر میں سو وہم نمود ہےعالم تمام ایک طلسم وجود ہےفرحت کانپوری
- کچھ تو وفور شوق میں باعث امتیاز ہومیری نظر کے سامنے ان کی حریم ناز ہوفرحت کانپوری
- کوئی بھی ہم سفر نہیں ہوتادرد کیوں رات بھر نہیں ہوتافرحت کانپوری
- منہ بولا بول جگت کا ہے جو من میں رہے سو اپنا ہےیہ دل کا میٹھا میٹھا درد بھی گونگے کا سا سپنا ہےفرحت کانپوری
- میرا دل ناشاد جو ناشاد رہے گاعالم دل برباد کا برباد رہے گافرحت کانپوری
- وصل کے لمحے کہانی ہو گئےشب کے موتی صبح پانی ہو گئےفرحت کانپوری
- وہ بہکی نگاہیں کیا کہیے وہ مہکی جوانی کیا کہیےوہ کیف میں ڈوبے لمحوں کی اب رات سہانی کیا کہیےفرحت کانپوری
- انسان تو نقد جاں بھی کھو دیتا ہےممکن ہو تو اپنا نشاں دھو دیتا ہےفرحت کانپوری
- ہے ساتھ عبادت کے عبا بھی تیریشامل ہے ریاضت میں ریا بھی تیریفرحت کانپوری