Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گاسورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گاEjaz Rahmani (1936–2019)
  2. اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرےمگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرےEjaz Rahmani (1936–2019)
  3. خشک دریا پڑا ہے خواہش کاخواب دیکھا تھا ہم نے بارش کاEjaz Rahmani (1936–2019)
  4. رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیںیہ پرندے کہاں سے آئے ہیںEjaz Rahmani (1936–2019)
  5. سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئیتھک کر جو بیٹھے ہم تو تھکن اور بڑھ گئیEjaz Rahmani (1936–2019)
  6. ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگسوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگEjaz Rahmani (1936–2019)
  7. کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگخود فراموش ہو گئے ہم لوگEjaz Rahmani (1936–2019)
  8. مٹ گیا غم ترے تکلم سےلب ہوئے آشنا تبسم سےEjaz Rahmani (1936–2019)
  9. نقش بر آب ہو گیا ہوں میںکتنا کم یاب ہو گیا ہوں میںEjaz Rahmani (1936–2019)
  10. ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہےیہ کون ہے جو مرے گھر کے پاس رہتا ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
  11. ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوںدیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوںEjaz Rahmani (1936–2019)
  12. آدمی کا وقار علم سے ہےزندگی کی بہار علم سے ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
  13. ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھوابھی یارو سفر کی ابتدا ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
  14. تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرفباہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتاEjaz Rahmani (1936–2019)
  15. وہ ایک پل کی رفاقت بھی کیا رفاقت تھیجو دے گئی ہے مجھے عمر بھر کی تنہائیEjaz Rahmani (1936–2019)