Poetry
- اب کرب کے طوفاں سے گزرنا ہی پڑے گاسورج کو سمندر میں اترنا ہی پڑے گاEjaz Rahmani (1936–2019)
- اسے یہ حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلاف کرےمگر وجود کا میرے بھی اعتراف کرےEjaz Rahmani (1936–2019)
- خشک دریا پڑا ہے خواہش کاخواب دیکھا تھا ہم نے بارش کاEjaz Rahmani (1936–2019)
- رنگ موسم کے ساتھ لائے ہیںیہ پرندے کہاں سے آئے ہیںEjaz Rahmani (1936–2019)
- سائے میں آبلوں کی جلن اور بڑھ گئیتھک کر جو بیٹھے ہم تو تھکن اور بڑھ گئیEjaz Rahmani (1936–2019)
- ظالم سے مصطفیٰ کا عمل چاہتے ہیں لوگسوکھے ہوئے درخت سے پھل چاہتے ہیں لوگEjaz Rahmani (1936–2019)
- کتنے باہوش ہو گئے ہم لوگخود فراموش ہو گئے ہم لوگEjaz Rahmani (1936–2019)
- مٹ گیا غم ترے تکلم سےلب ہوئے آشنا تبسم سےEjaz Rahmani (1936–2019)
- نقش بر آب ہو گیا ہوں میںکتنا کم یاب ہو گیا ہوں میںEjaz Rahmani (1936–2019)
- ہنسی لبوں پہ سجائے اداس رہتا ہےیہ کون ہے جو مرے گھر کے پاس رہتا ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
- ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوںدیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوںEjaz Rahmani (1936–2019)
- آدمی کا وقار علم سے ہےزندگی کی بہار علم سے ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
- ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھوابھی یارو سفر کی ابتدا ہےEjaz Rahmani (1936–2019)
- تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرفباہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتاEjaz Rahmani (1936–2019)
- وہ ایک پل کی رفاقت بھی کیا رفاقت تھیجو دے گئی ہے مجھے عمر بھر کی تنہائیEjaz Rahmani (1936–2019)