Poetry
- بزم تنہائی میں عکس شعلہ پیکر تھا کوئییا ہمارے سامنے یادوں کا لشکر تھا کوئیEhteram Islam (b. 1949)
- توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شایداک شمع جو روشن تھی بجھا دی گئی شایدEhteram Islam (b. 1949)
- حادثوں کا سلسلہ منظر بہ منظر جم گیاہر کسی کے دھڑ پہ اک فرعون کا سر جم گیاEhteram Islam (b. 1949)
- ڈھونڈ سایہ نہ شجر آگے بھیطے جو کرنا ہے سفر آگے بھیEhteram Islam (b. 1949)
- سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہوآسماں کا رنگ آگے آسمانی ہو نہ ہوEhteram Islam (b. 1949)
- فضائے شام ضیائے سحر اسی سے ملیکشش حیات کو المختصر اسی سے ملیEhteram Islam (b. 1949)
- ساتھ رکھئے کام آئے گا بہت نام خداخوف گر جاگا تو پھر کس کو صدا دی جائے گیEhteram Islam (b. 1949)
- یاد تھا سقراطؔ کا قصہ سبھی کو احترامؔسوچئے ایسے میں بڑھ کر سچ کو سچ کہتا تو کونEhteram Islam (b. 1949)