Poetry
- اپنے آپ کو یوں سمجھاتے رہتے ہیںامیدوں کے پر سہلاتے رہتے ہےDeepak Jain Deep (b. 1961)
- ادھورا ہی رہے ہر راستہ تونا پہنچے منزلوں تک سلسلہ توDeepak Jain Deep (b. 1961)
- ایسے درکنار ہو گئےحاشیے کے پار ہو گئےDeepak Jain Deep (b. 1961)
- تیرے جلووں نے کیسی شرط رکھ دیکی خوشبو دیکھنے کی شرط رکھ دیDeepak Jain Deep (b. 1961)
- تیرے در تک آؤں میںآئینہ ہو جاؤں میںDeepak Jain Deep (b. 1961)
- شام سے ضد پر اڑے ہیںخواب پلکوں پر کھڑے ہیںDeepak Jain Deep (b. 1961)
- کھونے کا ملال رہ گیاآئنے میں بال رہ گیاDeepak Jain Deep (b. 1961)
- یہ اس کی نیند کو کیا ہو گیا ہےمری آنکھوں میں شب بھر جاگتا ہےDeepak Jain Deep (b. 1961)