Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آؤ حسن یار کی باتیں کریںزلف کی رخسار کی باتیں کریںChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  2. اس طرح کر گیا دل کو مرے ویراں کوئینہ تمنا کوئی باقی ہے نہ ارماں کوئیChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  3. جب سے تیرا کرم ہے بندہ نوازسوز ہے سوز اور نہ ساز ہے سازChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  4. دشمن جوانیوں کی یہ آشنائیاں ہیںان آشنائیوں میں کیا کیا برائیاں ہیںChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  5. دل بلا سے نثار ہو جائےآپ کو اعتبار ہو جائےChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  6. یارب غم ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتاجو ہاتھ جگر پر ہے وہ دست دعا ہوتاChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  7. یہ مایوسی کہیں وجہ سکون دل نہ بن جائےغم بے حاصلی ہی عشق کا حاصل نہ بن جائےChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  8. محبت کس قدر یاس آفریں معلوم ہوتی ہےترے ہونٹوں کی ہر جنبش نئی معلوم ہوتی ہےChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  9. رات کی بات کا مذکور ہی کیاچھوڑیئے رات گئی بات گئیChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
  10. قبول اس بارگہہ میں التجا کوئی نہیں ہوتیالٰہی یا مجھی کو التجا کرنا نہیں آتاChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)