Poetry
- آدھا مزہ وصال کا پائے ہوئے تو ہوںننگا گلے سے تم کو لگائے ہوئے تو ہوںبوم میرٹھی
- اتش حسن بھری ہے تیرے رخساروں میںکون منہ مارے دہکتے ہوئے انگاروں میںبوم میرٹھی
- اچھلتا کودتا ہے خوش دل دیوانہ ہوتا ہےنظر کے سامنے جب جلوۂ جانانہ ہوتا ہےبوم میرٹھی
- اس قدر بڑھ گئی وحشت ترے دیوانے کیتوڑ کے پھینک دیں سب کھڈیاں پاخانے کیبوم میرٹھی
- اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتیتو پھر الو کے پٹھے کو نصیحت اور ہو جاتیبوم میرٹھی
- اللہ اللہ وصل کی شب اس قدر اعجاز ہےایک ذرا سی چیز ہے اس پر بھی اتنا ناز ہےبوم میرٹھی
- جو پوچھا کیا مریض غم کا درماں ہو نہیں سکتاتو سالے نے کہا ہنس کر کے ہاں ہاں ہو نہیں سکتابوم میرٹھی
- جوش پر یوں جذبۂ بے اختیار آ ہی گیادیکھ کر ان کو برہنہ مجھ کو پیار آ ہی گیابوم میرٹھی
- شب وعدہ ادھر مجھ کو ہنسی سی آئی جاتی ہےادھر ان کی نظر ہے خود بخود شرمائی جاتی ہےبوم میرٹھی
- ظلم سالے نے کیا یہ دل دلگیر کے ساتھرکھ دیا باندھ کے چھپر میں اسے تیر کے ساتھبوم میرٹھی
- عدو کی ان کے کوچہ میں مرمت ہونے والی ہےکسی کی آج بے پیسہ حجامت ہونے والی ہےبوم میرٹھی
- کر سکی کچھ نہ تری زلف سیاہ فام مراکفر کے سایہ میں بڑھتا رہا اسلام مرابوم میرٹھی
- جب خزاں آئی چمن میں سب دغا دینے لگےتنکے اڑا اڑ کر نشیمن کا پتہ دینے لگےبوم میرٹھی
- نہ پوچھو تم کو اور دشمن کو دل میں کیا سمجھتا ہوںاسے الو تمہیں الو کا میں پٹھا سمجھتا ہوںبوم میرٹھی