Poetry
- جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کیروئے خزاں کو خیر منائے بہار کیبیتاب عظیم آبادی
- دل لیے اور دکھا دکھا کے لیےکی جفا اور مزے جفا کے لیےبیتاب عظیم آبادی
- ڈوب جانے کے سوا عشق میں چارا ہی نہیںاس سمندر کا کسی سمت کنارا ہی نہیںبیتاب عظیم آبادی
- شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہاایک سودا رہا جب تک کہ مجھے ہوش رہابیتاب عظیم آبادی
- عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچےکچھ حقیقت بھی ہے انساں کی کہاں تک پہنچےبیتاب عظیم آبادی
- غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہومر کے سو بار ہو زندہ تو کبھی شاد نہ ہوبیتاب عظیم آبادی
- کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتانہ اس دہن میں فغاں تھی نہ تھا زباں کا پتابیتاب عظیم آبادی
- ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیںآج تک میں نے اسے دیکھا نہیںبیتاب عظیم آبادی
- اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرارہے بڑھا ہوا ہر آن حوصلہ تیرابیتاب عظیم آبادی
- ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والےکہیں جی نہ چھوڑیں وفا کرنے والےبیتاب عظیم آبادی