Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. جس کو پڑی ہو اپنے گریباں کے تار کیروئے خزاں کو خیر منائے بہار کیبیتاب عظیم آبادی
  2. دل لیے اور دکھا دکھا کے لیےکی جفا اور مزے جفا کے لیےبیتاب عظیم آبادی
  3. ڈوب جانے کے سوا عشق میں چارا ہی نہیںاس سمندر کا کسی سمت کنارا ہی نہیںبیتاب عظیم آبادی
  4. شادمانی کا کبھی غم کا کبھی جوش رہاایک سودا رہا جب تک کہ مجھے ہوش رہابیتاب عظیم آبادی
  5. عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچےکچھ حقیقت بھی ہے انساں کی کہاں تک پہنچےبیتاب عظیم آبادی
  6. غم سے نا اہل وفا حشر تک آزاد نہ ہومر کے سو بار ہو زندہ تو کبھی شاد نہ ہوبیتاب عظیم آبادی
  7. کھٹک نے دل کی دیا زخم بے نشاں کا پتانہ اس دہن میں فغاں تھی نہ تھا زباں کا پتابیتاب عظیم آبادی
  8. ہجر میں غم کش کوئی مجھ سا نہیںآج تک میں نے اسے دیکھا نہیںبیتاب عظیم آبادی
  9. اثر نہ کم ہو کبھی نالۂ رسا تیرارہے بڑھا ہوا ہر آن حوصلہ تیرابیتاب عظیم آبادی
  10. ذرا سوچ کر اے جفا کرنے والےکہیں جی نہ چھوڑیں وفا کرنے والےبیتاب عظیم آبادی