Poetry
- ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیںمگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیںآسی الدنی
- الفت میں مرے تو زندگی ملتی ہےغم لاکھ سہے تو ایک خوشی ملتی ہےآسی الدنی
- باتوں میں تو اختیار شیرینی کراظہار نیاز و عجز و مسکینی کرآسی الدنی
- ظالم دم نزع نہ آیا افسوسافسانۂ غم نہ سننے پایا افسوسآسی الدنی
- قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھیآشیانہ ہی مرا صورت نمائے دام تھاآسی الدنی