Poetry
- ایک دوست کی خوش مذاقی پرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- گریزMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ادھر بھی آMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عیادتMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ڈبو دی تھی جہاں طوفاں نے کشتیوہاں سب تھے خدا کیا نا خدا کیاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہےحسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئیزندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- یا تو کسی کو جرأت دیدار ہی نہ ہویا پھر مری نگاہ سے دیکھا کرے کوئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)