Poetry
- نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں ماراجو چڑھا منہ اسے میدان اجل میں ماراSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- وقت پیری شباب کی باتیںایسی ہیں جیسے خواب کی باتیںSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتاپر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہواک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہوSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہےکیا حقیقی ہے کیا مجازی ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کاچشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سےلگایا جی کو ناحق غم ابھی سےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہےزندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- تو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوقؔہے برا وہ ہی کہ جو تجھ کو برا جانتا ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- جن کو اس وقت میں اسلام کا دعویٰ ہے کمالغور سے دیکھو تو اے ذوقؔ ہے ان کا یہ حالSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دےجس سر کا ہے یہ بال اسی سر میں جوڑ دےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئیکچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئیSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہےآراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلےتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
- ہیں دہن غنچوں کے وا کیا جانے کیا کہنے کو ہیںشاید اس کو دیکھ کر صل علیٰ کہنے کو ہیںSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)