Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. نیمچہ یار نے جس وقت بغل میں ماراجو چڑھا منہ اسے میدان اجل میں ماراSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  2. وقت پیری شباب کی باتیںایسی ہیں جیسے خواب کی باتیںSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  3. وہ کون ہے جو مجھ پہ تأسف نہیں کرتاپر میرا جگر دیکھ کہ میں اف نہیں کرتاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  4. ہاتھ سینہ پہ مرے رکھ کے کدھر دیکھتے ہواک نظر دل سے ادھر دیکھ لو گر دیکھتے ہوSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  5. ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہےکیا حقیقی ہے کیا مجازی ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  6. ہنگامہ گرم ہستئ نا پائیدار کاچشمک ہے برق کی کہ تبسم شرار کاSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  7. ہوئے کیوں اس پہ عاشق ہم ابھی سےلگایا جی کو ناحق غم ابھی سےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  8. یہ اقامت ہمیں پیغام سفر دیتی ہےزندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  9. تو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوقؔہے برا وہ ہی کہ جو تجھ کو برا جانتا ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  10. جن کو اس وقت میں اسلام کا دعویٰ ہے کمالغور سے دیکھو تو اے ذوقؔ ہے ان کا یہ حالSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  11. دنیا سے ذوقؔ رشتۂ الفت کو توڑ دےجس سر کا ہے یہ بال اسی سر میں جوڑ دےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  12. برق میرا آشیاں کب کا جلا کر لے گئیکچھ جو خاکستر بچا آندھی اڑا کر لے گئیSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  13. جو کچھ کہ ہے دنیا میں وہ انساں کے لیے ہےآراستہ یہ گھر اسی مہماں کے لیے ہےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  14. لیتے ہی دل جو عاشق دل سوز کا چلےتم آگ لینے آئے تھے کیا آئے کیا چلےSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)
  15. ہیں دہن غنچوں کے وا کیا جانے کیا کہنے کو ہیںشاید اس کو دیکھ کر صل علیٰ کہنے کو ہیںSheikh Ibrahim Zauq (1790–1854)