Poetry
- نغمہ در جاں رقص برپا خندہ بر لبدل تمناؤں کے بے پایاں الاؤ کے قریبNoon Meem Rashid (1910–1975)
- ہمارے اعضا جو آسماں کی طرف دعا کے لیے اٹھے ہیںمقام نازک پہ ضرب کاری سے جاں بچانے کا ہے وسیلہNoon Meem Rashid (1910–1975)
- ہم محبت کے خرابوں کے مکیںوقت کے طول المناک کے پروردہ ہیںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- یہ قدسیوں کی زمیںجہاں فلسفی نے دیکھا تھا، اپنے خواب سحر گہی میں،Noon Meem Rashid (1910–1975)
- پلا ساقیا مئے جاں پلا کہ میں لاؤں پھر خبر جنوںیہ خرد کی رات چھٹے کہیں نظر آئے پھر سحر جنوںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- غم عاشقی میں گرہ کشا نہ خرد ہوئی نہ جنوں ہواوہ ستم سہے کہ ہمیں رہا نہ پئے خرد نہ سر جنوںNoon Meem Rashid (1910–1975)
- وہی منزلیں وہی دشت و در ترے دل زدوں کے ہیں راہ بروہی آرزو وہی جستجو وہی راہ پر خطر جنوںNoon Meem Rashid (1910–1975)