Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پھوڑے نے سفر میں سخت گھبرایا ہےکلکتہ کی راہ میں یہ دکھ پایا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  2. جراح کے سامنے کھولا پھوڑامیزان نظر میں اس نے تولا پھوڑاMunir Shikohabadi (1814–1880)
  3. مضمون اگر راہ میں ہاتھ آتا ہےخامہ چلنے میں ٹھوکریں کھاتا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  4. ہر چند گناہوں سے ہوں میں نامہ سیاہرحمت ہے کثیر اس کی مصحف ہے گواہMunir Shikohabadi (1814–1880)
  5. عاشق ہی فقط نہیں ہے جنجالوں میںہر طائر دل پھنسا ہے ان جالوں میںMunir Shikohabadi (1814–1880)
  6. کلکتہ کو ڈاک میں چلا ہوں جو میں آہغیروں کے پاؤں سے ہوئی قطع یہ راہMunir Shikohabadi (1814–1880)
  7. وہ بحر کرم جو مہرباں ہو جائےہر دامن تر صبح جناں ہو جائےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  8. قید سے نجاتMunir Shikohabadi (1814–1880)
  9. بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھاخود بخود جوش مے ناب سے شیشہ اٹھاMunir Shikohabadi (1814–1880)
  10. بے وقت جو گھر سے وہ مسیحا نکل آیاگھبرا کے مرے منہ سے کلیجہ نکل آیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
  11. عکس رخ گلگوں سے تماشا نظر آیاآئینہ انہیں پھولوں کا دونا نظر آیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
  12. فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہےزلف پیچاں نے لام باندھا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
  13. کعبہ سے مجھ کو لائے سواد کنشت میںاصلاح دی بتوں نے خط سر نوشت میںMunir Shikohabadi (1814–1880)
  14. نازک ایسا نہیں کسی کا پیٹمخمل رنگ گل ہے گویا پیٹMunir Shikohabadi (1814–1880)
  15. ہوتی ہے ہار جیت پنہاں بات بات میںچوپڑ بچھی ہے انجمن کائنات میںMunir Shikohabadi (1814–1880)