Poetry
- پھوڑے نے سفر میں سخت گھبرایا ہےکلکتہ کی راہ میں یہ دکھ پایا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- جراح کے سامنے کھولا پھوڑامیزان نظر میں اس نے تولا پھوڑاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- مضمون اگر راہ میں ہاتھ آتا ہےخامہ چلنے میں ٹھوکریں کھاتا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- ہر چند گناہوں سے ہوں میں نامہ سیاہرحمت ہے کثیر اس کی مصحف ہے گواہMunir Shikohabadi (1814–1880)
- عاشق ہی فقط نہیں ہے جنجالوں میںہر طائر دل پھنسا ہے ان جالوں میںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- کلکتہ کو ڈاک میں چلا ہوں جو میں آہغیروں کے پاؤں سے ہوئی قطع یہ راہMunir Shikohabadi (1814–1880)
- وہ بحر کرم جو مہرباں ہو جائےہر دامن تر صبح جناں ہو جائےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- قید سے نجاتMunir Shikohabadi (1814–1880)
- بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھاخود بخود جوش مے ناب سے شیشہ اٹھاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- بے وقت جو گھر سے وہ مسیحا نکل آیاگھبرا کے مرے منہ سے کلیجہ نکل آیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- عکس رخ گلگوں سے تماشا نظر آیاآئینہ انہیں پھولوں کا دونا نظر آیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
- فوج مژگاں کا کچھ ارادہ ہےزلف پیچاں نے لام باندھا ہےMunir Shikohabadi (1814–1880)
- کعبہ سے مجھ کو لائے سواد کنشت میںاصلاح دی بتوں نے خط سر نوشت میںMunir Shikohabadi (1814–1880)
- نازک ایسا نہیں کسی کا پیٹمخمل رنگ گل ہے گویا پیٹMunir Shikohabadi (1814–1880)
- ہوتی ہے ہار جیت پنہاں بات بات میںچوپڑ بچھی ہے انجمن کائنات میںMunir Shikohabadi (1814–1880)