Poetry
- میرے اسکول مری یادوں کے پیکر سن لےمیں ترے واسطے روتا ہوں برابر سن لےMunawwar Rana
- اس کی بنائی ہوئی ہر تصویراخباروں کی خبر بن جاتی ہےMunawwar Rana
- اس کی ہر باتہر اشارےMunawwar Rana
- عمر کی ڈھلتی ہوئی دوپہر میںٹھنڈی ہوا کے جھونکے کا احساس بھیMunawwar Rana
- اب آپ کی مرضی ہے سنبھالیں نہ سنبھالیںخوشبو کی طرح آپ کے رومال میں ہم ہیںMunawwar Rana
- اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کروتم مجھے خواب میں آ کر نہ پریشان کروMunawwar Rana
- ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگامیں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہےMunawwar Rana
- اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہےماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہےMunawwar Rana
- بچوں کی فیس ان کی کتابیں قلم دواتمیری غریب آنکھوں میں اسکول چبھ گیاMunawwar Rana
- برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگرماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہےMunawwar Rana
- بوجھ اٹھانا شوق کہاں ہے مجبوری کا سودا ہےرہتے رہتے اسٹیشن پر لوگ قلی ہو جاتے ہیںMunawwar Rana
- پھر کربلا کے بعد دکھائی نہیں دیاایسا کوئی بھی شخص کہ پیاسا کہیں جسےMunawwar Rana
- تمام جسم کو آنکھیں بنا کے راہ تکوتمام کھیل محبت میں انتظار کا ہےMunawwar Rana
- تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچوتمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہےMunawwar Rana
- تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتےہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیںMunawwar Rana
- تمہیں بھی نیند سی آنے لگی ہے تھک گئے ہم بھیچلو ہم آج یہ قصہ ادھورا چھوڑ دیتے ہیںMunawwar Rana
- تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلکمجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگیMunawwar Rana
- جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہےماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہےMunawwar Rana
- چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہےمیں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہےMunawwar Rana
- دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکنماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہےMunawwar Rana
- دولت سے محبت تو نہیں تھی مجھے لیکنبچوں نے کھلونوں کی طرف دیکھ لیا تھاMunawwar Rana
- سگی بہنوں کا جو رشتہ ہے اردو اور ہندی میںکہیں دنیا کی دو زندہ زبانوں میں نہیں ملتاMunawwar Rana
- شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاںماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگاMunawwar Rana
- فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیںوہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیںMunawwar Rana
- کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھےکچھ اس نے بھی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھاMunawwar Rana
- کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گااگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون باندھے گاMunawwar Rana
- کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میںیہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہےMunawwar Rana
- کھلونوں کی دکانوں کی طرف سے آپ کیوں گزرےیہ بچے کی تمنا ہے یہ سمجھوتا نہیں کرتیMunawwar Rana
- کھلونوں کے لئے بچے ابھی تک جاگتے ہوں گےتجھے اے مفلسی کوئی بہانہ ڈھونڈ لینا ہےMunawwar Rana
- لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہےمیں اردو میں غزل کہتا ہوں ہندی مسکراتی ہےMunawwar Rana
- ماں خواب میں آ کر یہ بتا جاتی ہے ہر روزبوسیدہ سی اوڑھی ہوئی اس شال میں ہم ہیںMunawwar Rana
- مٹی کا بدن کر دیا مٹی کے حوالےمٹی کو کہیں تاج محل میں نہیں رکھاMunawwar Rana
- محبت ایک پاکیزہ عمل ہے اس لیے شایدسمٹ کر شرم ساری ایک بوسے میں چلی آئیMunawwar Rana
- منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں روناجہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتیMunawwar Rana
- میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیںصرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیاMunawwar Rana
- نکلنے ہی نہیں دیتی ہیں اشکوں کو مری آنکھیںکہ یہ بچے ہمیشہ ماں کی نگرانی میں رہتے ہیںMunawwar Rana
- ہم نہیں تھے تو کیا کمی تھی یہاںہم نہ ہوں گے تو کیا کمی ہوگیMunawwar Rana
- ہنس کے ملتا ہے مگر کافی تھکی لگتی ہیںاس کی آنکھیں کئی صدیوں کی جگی لگتی ہیںMunawwar Rana
- یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوںاس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گاMunawwar Rana