Poetry
- وہ سرد رات جبکہ سفر کر رہا تھا میںرنگینیوں سے ظرف نظر بھر رہا تھا میںKaifi Azmi (1919–2002)
- یہ اندھیری رات یہ ساری فضا سوئی ہوئیپتی پتی منظر خاموش میں کھوئی ہوئیKaifi Azmi (1919–2002)
- یہ بجھی سی شام یہ سہمی ہوئی پرچھائیاںخون دل بھی اس فضا میں رنگ بھر سکتا نہیںKaifi Azmi (1919–2002)
- یہ برسات یہ موسم شادمانیخس و خار پر پھٹ پڑی ہے جوانیKaifi Azmi (1919–2002)
- یہ سانپ آج جو پھن اٹھائےمرے راستے میں کھڑا ہےKaifi Azmi (1919–2002)
- یہ صحت بخش تڑکا یہ سحر کی جلوہ سامانیافق سارا بنا جاتا ہے دامان چمن جیسےKaifi Azmi (1919–2002)
- یہ کس طرح یاد آ رہی ہو یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوکہ جیسے سچ مچ نگاہ کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہوKaifi Azmi (1919–2002)
- ایک دو ہی نہیں چھبیس دیےایک اک کر کے جلائے میں نےKaifi Azmi (1919–2002)
- چیر کے سال میں دو بار زمیں کا سینہدفن ہو جاتا ہوںKaifi Azmi (1919–2002)
- مدتوں میں اک اندھے کنویں میں اسیرسر پٹکتا رہا گڑگڑاتا رہاKaifi Azmi (1919–2002)
- میں نے تنہا کبھی اس کو دیکھا نہیںپھر بھی جب اس کو دیکھا وہ تنہا ملاKaifi Azmi (1919–2002)
- آج اندھیرا مری نس نس میں اتر جائے گاآنکھیں بجھ جائیں گی بجھ جائیں گے احساس و شعورKaifi Azmi (1919–2002)
- میرے کاندھے پہ بیٹھا کوئیپڑھتا رہتا ہے انجیل و قرآن و ویدKaifi Azmi (1919–2002)
- بس اک جھجک ہے یہی حال دل سنانے میںکہ تیرا ذکر بھی آئے گا اس فسانے میںKaifi Azmi (1919–2002)
- بستی میں اپنی ہندو مسلماں جو بس گئےانساں کی شکل دیکھنے کو ہم ترس گئےKaifi Azmi (1919–2002)