Poetry
- ہے آفتاب اور مرے دل کا داغ ایکدیکھا تو بزم عشق میں ہے یہ چراغ ایکJoshish Azimabadi (d. 1830)
- یاد ہیں وے دن تجھے ہم کیسے آواروں میں تھےخار تھے ہر آبلوں میں آبلے خاروں میں تھےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اس شرمگیں کے منہ پہ نہ ہر دم نگاہ رکھسر رشتۂ نگاہ کو اپنے نگاہ رکھJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اس غم کدے سے کچھ نہ لگا ہاتھ ہمارےآہ دل سوزاں ہی چلی ساتھ ہمارےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تنہائی سے ہے صحبت دن رات جدائی میںکیا خوب گزرتی ہے اوقات جدائی میںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چھوڑ دے مار لات دنیا کوکچھ نہیں ہے ثبات دنیا کوJoshish Azimabadi (d. 1830)
- خوش نما گرچہ مد کا ہالہ ہےتیرے کانوں کا بالا بالا ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- دیوانہ ہوں مجھے نہ تساہل سے باندھئےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- یار کے تیر کا نشانہ ہوںاپنے طالع کا میں دوانا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)