غزل کی قریبی بہن نظم ہے۔ نظم وہ شاعری ہے جس کا موضوع ایک ہی ہو — ہر سطر اسی ایک بات کے گرد گھومتی ہے۔ جہاں غزل موتیوں کی لڑی ہے، نظم ایک ہی تراشیدہ مجسمہ ہے: ایک محبت کی نظم، ایک سیاسی نظم، ایک مرثیہ، کسی موسم کی منظر کشی۔ اقبالؔ کا ”لب پہ آتی ہے دعا“ نظم ہے؛ ان کی غزلیں اس سے بالکل الگ چیز ہیں۔
کچھ بنیادی فرق:
- موضوع۔ نظم کا ایک ہی موضوع ہوتا ہے۔ غزل میں اشعار کی تعداد جتنی، موضوع اتنے۔
- ساخت۔ غزل قافیہ و ردیف کے سخت قواعد کی پابند ہے۔ نظم زیادہ آزاد ہے — ایک قافیہ، جوڑے قافیے، بے قافیہ — کچھ بھی۔
- اثر۔ نظم اپنی دلیل دھیرے دھیرے قائم کرتی ہے۔ غزل کا اثر جمع ہوتا جاتا ہے — ہر موتی لڑی میں مزید روشنی ڈالتا ہے۔