Poetry
- اسے چھوا ہی نہیں جو مری کتاب میں تھاوہی پڑھایا گیا مجھ کو جو نصاب میں تھاVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- داغ ہونے لگے ظاہر میرےتیز کر رنگ مصور میرےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- دشت کی خاک بھی چھانی ہےگھر سی کہاں ویرانی ہےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- دل کھنڈر میں کھڑے ہوئے ہیں ہمبازگشت اپنی سن رہے ہیں ہمVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- ذرا لو چراغ کی کم کرو مرا دکھ ہے پھر سے اتار پرجسے سن کے اشک چھلک پڑیں وہی دھن بجاؤ ستار پرVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- زندگی کی ہنسی اڑاتی ہوئیخواہش مرگ سر اٹھاتی ہوئیVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- سب کے آگے نہیں بکھرنا ہےاب جنوں اور طرح کرنا ہےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- کوئی اس کے برابر ہو گیا ہےیہ سنتے ہی وہ پتھر ہو گیا ہےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- ہوا کے ساتھ یاری ہو گئی ہےدیے کی عمر لمبی ہو گئی ہےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- ہوا کے وار پہ اب وار کرنے والا ہےچراغ بجھنے سے انکار کرنے والا ہےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- ارادہ تو نہیں ہے خودکشی کامگر میں زندگی سے خوش نہیں ہوںVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- ایک کرن پھر مجھ کو واپس کھینچ گئیمیں بس جسم سے باہر آنے والا تھاVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- بچھڑنے کا ہمیں امکان تو تھامگر اب دن مقرر ہو گیا ہےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- پجاری ہیں ازل سے میرؔ جی کےوہی ہم ہیں وہی قشقہ ہماراVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- تنہا ہوتا ہوں تو مر جاتا ہوں میںمیرے اندر تو زندہ ہو جاتا ہےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- تو بھی ناراض بہت ہے مجھ سےزندگی تجھ سے خفا ہوں میں بھیVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- جن کا سوجھا نہ کچھ جواب ہمیںان سوالوں پہ ہنس دیئے ہم لوگVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- دیکھنا چاہتا ہوں گم ہو کرکیا کوئی ڈھونڈ کے لاتا ہے مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- ذرا سا دھیان کیا بھٹکا ہماراہمیں پر آ گرا ملبہ ہماراVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- روز یہ خواب ڈراتا ہے مجھےکوئی سایہ لیے جاتا ہے مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- سبھی کو راستہ بتا دیا گیایوں منزلوں کا قد گھٹا دیا گیاVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- عشق بینائی بڑھا دیتا ہےجانے کیا کیا نظر آتا ہے مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- گھر سے نکلا تھا خودکشی کرنےریل کے ڈبے گن رہا ہوں میںVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- گھر میں وہی پیلی تنہائی رہتی ہےدیواروں کے رنگ بدلتے رہتے ہیںVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- محبت کے آداب سیکھو ذرااسے جان کہہ کر پکارا کروVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- میری کوشش تو یہی ہے کہ یہ معصوم رہےاور دل ہے کہ سمجھ دار ہوا جاتا ہےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- میں تو کسی جلوس میں گیا نہیںمرا مکان کیوں جلا دیا گیاVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- میں عدم کی پناہ گاہ میں ہوںچھو بھی سکتی نہیں حیات مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- یہاں تک کر لیا مصروف خود کواکیلی ہو گئی تنہائی میریVikas Sharma Raaz (b. 1973)
- یہ صدا کاش اسی نے دی ہواس طرح وہ ہی بلاتا ہے مجھےVikas Sharma Raaz (b. 1973)