Poetry
- جس آئینے میں بھی جھانکا نظر اسی سے ملیمجھے تو اپنی بھی یارو خبر اسی سے ملیUmar Ansari (1912–2005)
- کر اپنی بات کہ پیارے کسی کی بات سے کیالیا ہے کام بتا تو نے اس حیات سے کیاUmar Ansari (1912–2005)
- لڑ جاتے ہیں سروں پہ مچلتی قضا سے بھیڈرتے نہیں چراغ ہمارے ہوا سے بھیUmar Ansari (1912–2005)
- مجھے مہماں ہی جانو رات بھر کادیا ہوں دوستوں میں رہ گزر کاUmar Ansari (1912–2005)
- ہر اک کا درد اسی آشفتہ سر میں تنہا تھاوہ ایک شخص جو سارے نگر میں تنہا تھاUmar Ansari (1912–2005)
- ہو کے اس کوچے سے آئی تو ستم ڈھا گئی کیاکچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ صبا پا گئی کیاUmar Ansari (1912–2005)
- ہیں سارے جرم جب اپنے حساب میں لکھناسوال یہ ہے کہ پھر کیا جواب میں لکھناUmar Ansari (1912–2005)
- باہر باہر سناٹا ہے اندر اندر شور بہتدل کی گھنی بستی میں یارو آن بسے ہیں چور بہتUmar Ansari (1912–2005)
- طاری ہے ہر طرف جو یہ عالم سکوت کاطوفاں کا پیش خیمہ سمجھ خامشی نہیںUmar Ansari (1912–2005)
- مسافروں سے محبت کی بات کر لیکنمسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کرUmar Ansari (1912–2005)
- وہی دیا کہ تھیں عاجز ہوائیں جن سے عمرؔکسی کے پھر نہ جلائے جلا بجھا ایساUmar Ansari (1912–2005)