Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. جس آئینے میں بھی جھانکا نظر اسی سے ملیمجھے تو اپنی بھی یارو خبر اسی سے ملیUmar Ansari (1912–2005)
  2. کر اپنی بات کہ پیارے کسی کی بات سے کیالیا ہے کام بتا تو نے اس حیات سے کیاUmar Ansari (1912–2005)
  3. لڑ جاتے ہیں سروں پہ مچلتی قضا سے بھیڈرتے نہیں چراغ ہمارے ہوا سے بھیUmar Ansari (1912–2005)
  4. مجھے مہماں ہی جانو رات بھر کادیا ہوں دوستوں میں رہ گزر کاUmar Ansari (1912–2005)
  5. ہر اک کا درد اسی آشفتہ سر میں تنہا تھاوہ ایک شخص جو سارے نگر میں تنہا تھاUmar Ansari (1912–2005)
  6. ہو کے اس کوچے سے آئی تو ستم ڈھا گئی کیاکچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ صبا پا گئی کیاUmar Ansari (1912–2005)
  7. ہیں سارے جرم جب اپنے حساب میں لکھناسوال یہ ہے کہ پھر کیا جواب میں لکھناUmar Ansari (1912–2005)
  8. باہر باہر سناٹا ہے اندر اندر شور بہتدل کی گھنی بستی میں یارو آن بسے ہیں چور بہتUmar Ansari (1912–2005)
  9. طاری ہے ہر طرف جو یہ عالم سکوت کاطوفاں کا پیش خیمہ سمجھ خامشی نہیںUmar Ansari (1912–2005)
  10. مسافروں سے محبت کی بات کر لیکنمسافروں کی محبت کا اعتبار نہ کرUmar Ansari (1912–2005)
  11. وہی دیا کہ تھیں عاجز ہوائیں جن سے عمرؔکسی کے پھر نہ جلائے جلا بجھا ایساUmar Ansari (1912–2005)