Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آجحسن نظر نواز حریف نظر ہے آجتاجور نجیب آبادی
  2. حشر میں پھر وہی نقشا نظر آتا ہے مجھےآج بھی وعدۂ فردا نظر آتا ہے مجھےتاجور نجیب آبادی
  3. غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میںفضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میںتاجور نجیب آبادی
  4. محبت میں زباں کو میں نواسنج فغاں کر لوںشکستہ دل کی آہوں کو حریف ناتواں کر لوںتاجور نجیب آبادی
  5. محبت میں زیاں کاری مراد دل نہ بن جائےیہ لا حاصل ہی عمر عشق کا حاصل نہ بن جائےتاجور نجیب آبادی
  6. حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیںدرد آفریں نظر درد آشنا نہیںتاجور نجیب آبادی