Poetry
- اے آرزوئے شوق تجھے کچھ خبر ہے آجحسن نظر نواز حریف نظر ہے آجتاجور نجیب آبادی
- حشر میں پھر وہی نقشا نظر آتا ہے مجھےآج بھی وعدۂ فردا نظر آتا ہے مجھےتاجور نجیب آبادی
- غم محبت میں دل کے داغوں سے روکش لالہ زار ہوں میںفضا بہاریں ہے جس کے جلووں سے وہ حریف بہار ہوں میںتاجور نجیب آبادی
- محبت میں زباں کو میں نواسنج فغاں کر لوںشکستہ دل کی آہوں کو حریف ناتواں کر لوںتاجور نجیب آبادی
- محبت میں زیاں کاری مراد دل نہ بن جائےیہ لا حاصل ہی عمر عشق کا حاصل نہ بن جائےتاجور نجیب آبادی
- حسن شوخ چشم میں نام کو وفا نہیںدرد آفریں نظر درد آشنا نہیںتاجور نجیب آبادی