Poetry
- آدمی آدمی سے ملتے ہیںآپ بھی کیا کسی سے ملتے ہیںراغب بدایونی
- ازل کی یاد میں میں گرم آہ سرد ہوالگی تھی چوٹ کبھی اور آج درد ہواراغب بدایونی
- ان سے دل ملتے ہی فرقت کی بلا بھی آئیجان آنے بھی نہ پائی کہ قضا بھی آئیراغب بدایونی
- بے خودی ہے حسرتوں کی بھیڑ چھٹ جانے کے بعدآپ ہی گم ہو گئے ہم راستہ پانے کے بعدراغب بدایونی
- جاؤں کیا منہ لے کے میں وہ بد گماں ہو جائے گارنگ کے اڑنے سے عشق اس پر عیاں ہو جائے گاراغب بدایونی
- دل ہے اپنا رنج فرقت میں شریکخود اذیت خود اذیت میں شریکراغب بدایونی
- نا مناسب ہے خفا نالوں کو سن کر ہوناابھی آیا ہی نہیں تم کو ستم گر ہوناراغب بدایونی
- نہیں ہے امن کا دنیا میں اب مقام کوئیخدا خدا کہے کوئی کہ رام رام کوئیراغب بدایونی
- واہ کیا عالم عجب ہے انتظار یار کانام ہے دیدار حسرت حسرت دیدار کاراغب بدایونی