Poetry
- اس شہر میں کچھ لوگوں سے پہچان ابھی ہےیعنی کہ مرے ہونے کا امکان ابھی ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- دل کو رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہےعالم ذات میں کیا بے سر و سامانی ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- سمندروں کے سفر پر ہیں رہنما بھی نہیںہم ایسے لوگوں کی کشتی کا ناخدا بھی نہیںQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- صبح امید کی اک شمع جلائی گئی تھیاس طرح مملکت جسم بچائی گئی تھیQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- مرے دماغ پہ آسیب کا اثر تو نہیںگماں گزرتا ہے یہ دشت میرا گھر تو نہیںQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گالٹے ہوؤں کا قبیلہ یہیں سے گزرے گاQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- میں اکثر سرد راتوں میںزمین خانۂ دل پرQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- اس کے ٹھہراؤ سے تھم جاتی ہے سب موج حیاتیعنی دریا میں نہیں سانس میں گہرائی ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- انا نے دونوں کے بیچ نفرت کی ایک دیوار کھینچ دی ہےادھر سے آنے کا مسئلہ ہے ادھر سے جانے کا مسئلہ ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- بہت غرور تھا سورج کو اپنی شدت پرسو ایک پل ہی سہی بادلوں سے ہار گیاQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- سرد راتوں کا تقاضہ تھا بدن جل جاےپھر وہ اک آگ جو سینہ سے لگائی میں نےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- شدت غم سے کوئی غم بھی نہیں ہو پایاجانے والے ترا ماتم بھی نہیں ہو پایاQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- میں رو پڑوں گا بہت بھینچ کے گلے نہ لگامیں پہلے جیسا نہیں ہوں کسی کا دکھ ہے مجھےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- ہم وہ ناداں تھے جو شہروں کو سکوں جانتے تھےتم نہیں آئے ادھر تم نے سمجھ داری کیQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- یوں رات گئے کس کو صدا دیتے ہیں اکثروہ کون ہمارا تھا جو واپس نہیں آیہQamar Abbas Qamar (b. 1993)
- یہ احتجاج عجب ہے خلاف تیغ ستمزمیں میں جذب نہیں ہو رہا ہے خوں میراQamar Abbas Qamar (b. 1993)