Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس شہر میں کچھ لوگوں سے پہچان ابھی ہےیعنی کہ مرے ہونے کا امکان ابھی ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  2. دل کو رونے کے لیے آنکھ میں بس پانی ہےعالم ذات میں کیا بے سر و سامانی ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  3. سمندروں کے سفر پر ہیں رہنما بھی نہیںہم ایسے لوگوں کی کشتی کا ناخدا بھی نہیںQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  4. صبح امید کی اک شمع جلائی گئی تھیاس طرح مملکت جسم بچائی گئی تھیQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  5. مرے دماغ پہ آسیب کا اثر تو نہیںگماں گزرتا ہے یہ دشت میرا گھر تو نہیںQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  6. یہ رت عزا کی ہے شہر حزیں سے گزرے گالٹے ہوؤں کا قبیلہ یہیں سے گزرے گاQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  7. میں اکثر سرد راتوں میںزمین خانۂ دل پرQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  8. اس کے ٹھہراؤ سے تھم جاتی ہے سب موج حیاتیعنی دریا میں نہیں سانس میں گہرائی ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  9. انا نے دونوں کے بیچ نفرت کی ایک دیوار کھینچ دی ہےادھر سے آنے کا مسئلہ ہے ادھر سے جانے کا مسئلہ ہےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  10. بہت غرور تھا سورج کو اپنی شدت پرسو ایک پل ہی سہی بادلوں سے ہار گیاQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  11. سرد راتوں کا تقاضہ تھا بدن جل جاےپھر وہ اک آگ جو سینہ سے لگائی میں نےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  12. شدت غم سے کوئی غم بھی نہیں ہو پایاجانے والے ترا ماتم بھی نہیں ہو پایاQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  13. میں رو پڑوں گا بہت بھینچ کے گلے نہ لگامیں پہلے جیسا نہیں ہوں کسی کا دکھ ہے مجھےQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  14. ہم وہ ناداں تھے جو شہروں کو سکوں جانتے تھےتم نہیں آئے ادھر تم نے سمجھ داری کیQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  15. یوں رات گئے کس کو صدا دیتے ہیں اکثروہ کون ہمارا تھا جو واپس نہیں آیہQamar Abbas Qamar (b. 1993)
  16. یہ احتجاج عجب ہے خلاف تیغ ستمزمیں میں جذب نہیں ہو رہا ہے خوں میراQamar Abbas Qamar (b. 1993)