Poetry
- آئے ہیں فاتحہ کو وہ گیسو سنوار کےچمکے نصیب آج ہمارے مزار کےنشتر چھپروی
- اک غیر کہ محفل سے اٹھایا نہیں جاتااک میں کہ کبھی ساتھ بٹھایا نہیں جاتانشتر چھپروی
- ان کی باتوں کو کچھ قیام نہیںصبح کہتے ہیں ہاں تو شام نہیںنشتر چھپروی
- تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتےبگڑی ہوئی تقدیر بنا کیوں نہیں دیتےنشتر چھپروی
- جب عشق کا جنوں مرے سر پر سوار تھادل کو قرار تھا نہ جگر کو قرار تھانشتر چھپروی
- درد وہ تو نے دیا جس کا مداوا نہ ہواتیرا بیمار مسیحا سے بھی اچھا نہ ہوانشتر چھپروی
- عبث فکر دوا میں ہے پریشاں چارہ گر میرامرا سر جائے گا تو جائے گا یہ درد سر میرانشتر چھپروی
- کیا بچے دل جان لیوا اس کا ہر انداز ہےغمزہ ہے عشوہ ہے شوخی ہے ادا ہے ناز ہےنشتر چھپروی
- میں کیا کہوں کہ حال ہے کیا ہجر یار میںدل اختیار میں نہ جگر اختیار میںنشتر چھپروی
- نہ بکھرایا کرو تم بیٹھے بیٹھے زلف پیچاں کوخدا کے واسطے دیکھو مرے حال پریشاں کونشتر چھپروی
- وہ بھی کیا دن تھے کہ جب چاہ نہ تھی پیار نہ تھاہجر کا رنج نہ تھا عشق کا آزار نہ تھانشتر چھپروی
- تیر مژگاں کو تو پیکان قضا کہتے ہیںپر نگاہ غلط انداز کو کیا کہتے ہیںنشتر چھپروی
- نہ جس میں آرزو ہوتی نہ جس میں مدعا ہوتامجھے بھی ایک دل یا رب کوئی ایسا دیا ہوتانشتر چھپروی