Poetry
- اب کے موسم میں ترا شہر وہ کیسا ہوگامیری مرضی کے بنا چاند نکلتا ہوگاNaeem Sarmad (b. 1992)
- اک ترے وصل کے لئے مولاہجر کاٹے ہیں ان گنے مولاNaeem Sarmad (b. 1992)
- تمہارے چہرے پہ دھیان ایسے ٹکا ہوا ہےتمام سمتوں کو ایک جانب رکھا ہوا ہےNaeem Sarmad (b. 1992)
- خدا سے بھی کب کوئی فرقت کٹی ہےشب ہجر شب سے بھی پہلے بنی ہےNaeem Sarmad (b. 1992)
- خود کو مرشد مان لے پیارے کیوں اور کیا کا بھید سمجھاپنی صورت تکتا رہ اور پھر کیسا کا بھید سمجھNaeem Sarmad (b. 1992)
- سرخ مٹی کو ہواؤں میں اڑاتے ہوئے ہماپنی آمد کے لئے دشت سجاتے ہوئے ہمNaeem Sarmad (b. 1992)
- کاف سے نون تلک شور مچا وحشت ہےیعنی اس عہد میں جو کچھ بھی ہوا وحشت ہےNaeem Sarmad (b. 1992)
- مجھ میں میری ذات بھی رکھی ہوئی ہے دوستچھوڑ یہ بات تو اور بھی الجھی ہوئی ہے دوستNaeem Sarmad (b. 1992)
- کیسی بپتا پال رکھی ہے قربت کی اور دوری کیخوشبو مار رہی ہے مجھ کو اپنی ہی کستوری کیNaeem Sarmad (b. 1992)