Poetry
- ارادے ہی پیروں کے چھالے ہوئے ہیںسفر حادثوں کے حوالے ہوئے ہیںMadhurima Singh (b. 1956)
- بہت ہیں زندگی میں غم سنو خاموش کیوں ہو تمتمہارے روبرو ہیں ہم سنو خاموش کیوں ہو تمMadhurima Singh (b. 1956)
- پھر یادوں کا موسم آیا کئی برس کے بعدجانے کیوں درپن شرمایا کئی برس کے بعدMadhurima Singh (b. 1956)
- کچھ سفر کا غبار جیسا تھاسانسوں پر اک ادھار جیسا تھاMadhurima Singh (b. 1956)
- میری خاطر کوش بھاگیہ کا گھٹ جاتا ہےدل کی ہر چٹھی کا کونا پھٹ جاتا ہےMadhurima Singh (b. 1956)
- میری سانسوں سے یوں آئے بھینی بھینی آگ کی خوشبوجوگی کی دھونی سے جیسے اڑتی ہے بیراگ کی خوشبوMadhurima Singh (b. 1956)
- میرے اندر جیسے کوئی ٹھنڈا صحرا جلتا ہےآہٹ آہٹ یوں لگتا ہے مجھ میں کوئی چلتا ہےMadhurima Singh (b. 1956)