Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ارادے ہی پیروں کے چھالے ہوئے ہیںسفر حادثوں کے حوالے ہوئے ہیںMadhurima Singh (b. 1956)
  2. بہت ہیں زندگی میں غم سنو خاموش کیوں ہو تمتمہارے روبرو ہیں ہم سنو خاموش کیوں ہو تمMadhurima Singh (b. 1956)
  3. پھر یادوں کا موسم آیا کئی برس کے بعدجانے کیوں درپن شرمایا کئی برس کے بعدMadhurima Singh (b. 1956)
  4. کچھ سفر کا غبار جیسا تھاسانسوں پر اک ادھار جیسا تھاMadhurima Singh (b. 1956)
  5. میری خاطر کوش بھاگیہ کا گھٹ جاتا ہےدل کی ہر چٹھی کا کونا پھٹ جاتا ہےMadhurima Singh (b. 1956)
  6. میری سانسوں سے یوں آئے بھینی بھینی آگ کی خوشبوجوگی کی دھونی سے جیسے اڑتی ہے بیراگ کی خوشبوMadhurima Singh (b. 1956)
  7. میرے اندر جیسے کوئی ٹھنڈا صحرا جلتا ہےآہٹ آہٹ یوں لگتا ہے مجھ میں کوئی چلتا ہےMadhurima Singh (b. 1956)