Poetry
- اب تو یہ سوچ کے بھی دل مرا گھبراتا ہےصبح کا بھولا ہوا شام کو گھر آتا ہےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- اک انجان راہ پر دونوںمل گئے آج بے خطر دونوںM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- اے دشت شب گزار تری آس کا ہرنکھائی میں یاس کی جو گرا رو پڑی پونM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- تمہارے پیکر سے پھوٹنے والی روشنی میری راہ میں ہےیہ فاصلہ اس لئے گوارا کہ اک حقیقت نگاہ میں ہےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- جلے گا چاند ستارے دھواں اڑائیں گےہمارے خواب تری آنکھ میں جب آئیں گےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- دراز قامت دراز گیسو عجیب سا اک نگار تھا وہگلوں کی باگ اس کے ہاتھ میں تھی ہواؤں پر جب سوار تھا وہM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- درد کو درد سے نسبت ہوگیکیوں سوچیں کہ محبت ہوگیM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- رستہ کسی وحشی کا ابھی دیکھ رہا ہےیہ پیڑ جو اس راہ میں صدیوں سے کھڑا ہےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- عقاب فکر اکیلا ہے برف زاروں میںکہ چاند جاڑے کا جیسے لرزتے تاروں میںM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- فسوں کر گئی رات پاگل ہوااڑا لے گئی سرخ آنچل ہواM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- کاجل شام کی آنکھ سے ڈھلکے آنچل تیرے شانے سےاور ذرا غم بھی لے آئیں یادوں کے ویرانے سےM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- گھوموں نہیں تو کیا میں کہیں جا کے پڑ رہوںبیمار آدمی کی طرح رات کاٹ دوںM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- ہجر کا چاند درد کی ندییہی صورت ہے اپنی دنیا کیM Kothiyavi Rahi (1935–2005)
- یاس مکان دل سے نکل کر کونے کونے جلنے والیدرماندہ سی لوٹ آئی ہے رات ہے شاید ڈھلنے والیM Kothiyavi Rahi (1935–2005)