Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اگر آہ رسا سے کام ہم نا کام لیتے ہیںفرشتے پایۂ عرش معلی تھام لیتے ہیںKaifi Kakorvi (1852–1928)
  2. اے شیخ تیری پند و نصیحت سے کیا ہواکمبخت چھوٹتا ہے کہیں دل لگا ہواKaifi Kakorvi (1852–1928)
  3. درویش ہوں جو گنج میسر نہیں تو کیادل سے غنی ہوں پاس مرے زر نہیں تو کیاKaifi Kakorvi (1852–1928)
  4. دل کو صبر و قرار بھی نہ ہواجبر پر اختیار بھی نہ ہواKaifi Kakorvi (1852–1928)
  5. دے چکے دل تو پھر اب دل پر اجارا کیساہم سمجھتے ہیں ہمارا ہے ہمارا کیساKaifi Kakorvi (1852–1928)
  6. یہ بھی ہے کوئی بات کہ دل بد گماں نہ ہومیرا تو ہو عدو کا مگر امتحاں نہ ہوKaifi Kakorvi (1852–1928)