Poetry
- اگر آہ رسا سے کام ہم نا کام لیتے ہیںفرشتے پایۂ عرش معلی تھام لیتے ہیںKaifi Kakorvi (1852–1928)
- اے شیخ تیری پند و نصیحت سے کیا ہواکمبخت چھوٹتا ہے کہیں دل لگا ہواKaifi Kakorvi (1852–1928)
- درویش ہوں جو گنج میسر نہیں تو کیادل سے غنی ہوں پاس مرے زر نہیں تو کیاKaifi Kakorvi (1852–1928)
- دل کو صبر و قرار بھی نہ ہواجبر پر اختیار بھی نہ ہواKaifi Kakorvi (1852–1928)
- دے چکے دل تو پھر اب دل پر اجارا کیساہم سمجھتے ہیں ہمارا ہے ہمارا کیساKaifi Kakorvi (1852–1928)
- یہ بھی ہے کوئی بات کہ دل بد گماں نہ ہومیرا تو ہو عدو کا مگر امتحاں نہ ہوKaifi Kakorvi (1852–1928)