اگر آہ رسا سے کام ہم نا کام لیتے ہیں
Kaifi Kakorvi (1852–1928)اگر آہ رسا سے کام ہم نا کام لیتے ہیں
فرشتے پایۂ عرش معلی تھام لیتے ہیں
بتوں پر کوئی مر جائے قضا کا نام لیتے ہیں
یہ کافر اپنے اوپر کب کوئی الزام لیتے ہیں
بتوں کے ذکر پر کیفیؔ کلیجہ تھام لیتے ہیں
کوئی پوچھے اسی منہ سے خدا کا نام لیتے ہیں
اثر میری وفا کا بعد میرے یہ ہوا ان پر
مرا جب نام آتا ہے کلیجہ تھام لیتے ہیں
ترے ارمان دل میں آ کے جم جاتے ہیں کچھ ایسے
نکالو تو نکلنے کا نہیں پھر نام لیتے ہیں
پڑا رہنے دو اپنے سایۂ دیوار میں دم بھر
تمہارے دل جلے تھک کر ذرا آرام لیتے ہیں
ہوا ہے ابر ہے گلزار ہے مطرب ہے ساقی ہے
مزہ ساون کا لیتے ہیں تو مے آشام لیتے ہیں
تمہاری بد گمانی ہی تمہیں بدنام کرتی ہے
تمہارے مرنے والے کب تمہارا نام لیتے ہیں
لٹیرے ہیں حسیں معشوق ان کو کون کہتا ہے
زبردستی یہ گاہک جن سے دل بے دام لیتے ہیں
متاع دل کے بدلے بوسۂ لب کیوں نہ لیں عاشق
کہ چوکھا مال دیتے ہیں کرارے دام لیتے ہیں
ترے نقش قدم کو چھو کے سر پر کون آفت لے
ہزاروں فتنۂ محشر یہاں آرام لیتے ہیں
ہم اپنے گھر میں باتیں کرتے ہیں تم کو خلش کیوں ہے
شکایت دل سے کرتے ہیں کسی کا نام لیتے ہیں
خوشی منظور ہے ان کی زباں سے کچھ نہیں کہتے
نہ پوچھو دل پہ کیا کیا مورد آلام لیتے ہیں