Poetry
- ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہیترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہےJalaluddin Akbar (1905–1940)
- حسن اگر آشکار ہو جائےفتنۂ روزگار ہو جائےJalaluddin Akbar (1905–1940)
- خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیںہم سامنے ان کے بیٹھے ہیں اور قصۂ فرقت کہتے ہیںJalaluddin Akbar (1905–1940)
- ہم سے قائم جنون الفت ہےیعنی سرگشتۂ وفا ہیں ہمJalaluddin Akbar (1905–1940)
- یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد بھی کیا یادتو یاد ہے اور کوئی نہیں تیرے سوا یادJalaluddin Akbar (1905–1940)
- یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیںتری نظر میں نہیں ہے جو نور کچھ بھی نہیںJalaluddin Akbar (1905–1940)