Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ترا وصل ہے مجھے بے خودی ترا ہجر ہے مجھے آگہیترا وصل مجھ کو فراق ہے ترا ہجر مجھ کو وصال ہےJalaluddin Akbar (1905–1940)
  2. حسن اگر آشکار ہو جائےفتنۂ روزگار ہو جائےJalaluddin Akbar (1905–1940)
  3. خاموش ہیں لب اور آنکھوں سے آنسو ہیں کہ پیہم بہتے ہیںہم سامنے ان کے بیٹھے ہیں اور قصۂ فرقت کہتے ہیںJalaluddin Akbar (1905–1940)
  4. ہم سے قائم جنون الفت ہےیعنی سرگشتۂ وفا ہیں ہمJalaluddin Akbar (1905–1940)
  5. یہ بھول بھی کیا بھول ہے یہ یاد بھی کیا یادتو یاد ہے اور کوئی نہیں تیرے سوا یادJalaluddin Akbar (1905–1940)
  6. یہ کائنات یہ بزم ظہور کچھ بھی نہیںتری نظر میں نہیں ہے جو نور کچھ بھی نہیںJalaluddin Akbar (1905–1940)