Poetry
- اب بھلا کیا دیکھتے ہو آب میںغرق سب کچھ ہو گیا گرداب میںJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- ان سے مل کر بھی بھلا کیا کیجئےپاس بیٹھے اور شکوہ کیجئےJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- بارہا بس مجھے یوں لگتا ہےہے کوئی جو مجھے ہی تکتا ہےJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- بچھڑ کے غم میں تیرے کتنا تنہا ہو گیا ہوں میںگلی کا جوں کوئی ویران کونا ہو گیا ہوں میںJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- بندگی میں جو حبیبوں کی رہا سر میراتھوپنے کے لئے الزام ملا سر میراJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- تڑپ سے چیخ اٹھے گا جو اسے خوں خار کہہ دیں گےکہے گا آپ بیتی جو اسے بیمار کہہ دیں گےJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- خلوتوں سے نباہ کر آیازندگی کو تباہ کر آیاJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- داستاں یوں بدل گئی ہوگیموج ساحل نگل گئی ہوگیJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- سرد راتوں کا حسیں اک خواب ہے چہرہ تراکیا کہوں بس منظر نایاب ہے چہرہ تراJai Raj Singh Jhala (b. 1998)
- خوب صورت شے ہر اک نکلی ہے تیری ذات سے ہیچھو کے شجروں کو گزرتی یہ ہوائیںJai Raj Singh Jhala (b. 1998)