Poetry
- اپنے احسانوں کا نیلا سائباں رہنے دیاچھین لی چھت اور سر پر آسماں رہنے دیاIbrat Machlishahri
- اے موسم جنوں یہ عجب طرز قتل ہےانسانیت کے کھیتوں میں لاشوں کی فصل ہےIbrat Machlishahri
- حوادثات ضروری ہیں زندگی کے لئےکہ موڑ ہوتے ہیں ہر راہ ہر گلی کے لئےIbrat Machlishahri
- اپنی غربت کی کہانی ہم سنائیں کس طرحرات پھر بچہ ہمارا روتے روتے سو گیاIbrat Machlishahri
- جب آ جاتی ہے دنیا گھوم پھر کر اپنے مرکز پرتو واپس لوٹ کر گزرے زمانے کیوں نہیں آتےIbrat Machlishahri
- زمیں کے جسم کو ٹکڑوں میں بانٹنے والوکبھی یہ غور کرو کائنات کس کی ہےIbrat Machlishahri
- زندگی کم پڑھے پردیسی کا خط ہے عبرتؔیہ کسی طرح پڑھا جائے نہ سمجھا جائےIbrat Machlishahri
- سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میںوہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھاIbrat Machlishahri
- کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکاکہیں وعدے بھی نبھانے کے لئے ہوتے ہیںIbrat Machlishahri
- وہ یوں ثبوت عروج و زوال دیتا تھااٹھا کے ہاتھ میں پتھر اچھال دیتا تھاIbrat Machlishahri