حوادثات ضروری ہیں زندگی کے لئے

Ibrat Machlishahri

حوادثات ضروری ہیں زندگی کے لئے

کہ موڑ ہوتے ہیں ہر راہ ہر گلی کے لئے

نہ کوئی میرے لئے ہے نہ میں کسی کے لئے

بس ایک لفظ ندامت ہوں زندگی کے لئے

وہ تتلیوں کی طرح مجھ سے اور دور ہوا

بڑھایا جس کی طرف ہاتھ دوستی کے لئے

یہ عضو عضو مرا پیاس سے سلگتا ہے

مجھے لہو کی ضرورت ہے تشنگی کے لئے

اب اس سے بڑھ کے مرا امتحان کیا ہوگا

میں زہر پی کے جیا ہوں تری خوشی کے لئے

جو ہو سکے تو خود اشکوں کو پونچھ لو عبرتؔ

کسی کے پاس کہاں وقت دل دہی کے لئے