Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوںمیں بھی حسین ہی کی طرح کربلا میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
  2. دیر و حرم میں دشت و بیابان و باغ میںڈھونڈو نہ مجھ کو میں ہوں خود اپنے سراغ میںIbraheem Hosh (1918–1988)
  3. میں وہ نہیں کہ زمانے سے بے عمل جاؤںمزاج پوچھ کے دار و رسن کا ٹل جاؤںIbraheem Hosh (1918–1988)
  4. آج زنداں میں اسے بھی لے گئےجو کبھی اک لفظ تک بولا نہیںIbraheem Hosh (1918–1988)
  5. ان ہزاروں میں اور آپ، یہ کیا؟آپ، جو ایک تھے ہزاروں میںIbraheem Hosh (1918–1988)
  6. جو چپ لگاؤں تو صحرا کی خامشی جاگےجو مسکراؤں تو آزردگی بھی شرمائےIbraheem Hosh (1918–1988)
  7. روتے روتے مرے ہنسنے پہ تعجب نہ کروہے وہی چیز مگر دوسرے انداز میں ہےIbraheem Hosh (1918–1988)
  8. طے کر کے دل کا زینہ وہ اک قطرہ خون کاپلکوں کی چھت تک آیا تو لیکن گرا نہیںIbraheem Hosh (1918–1988)
  9. کرتا ہوں ایک خواب کے مبہم نقوش یادجب سے کھلی ہے آنکھ اسی مشغلے میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
  10. لفظوں سے بنا انساں لفظوں ہی میں رہتا ہےلفظوں سے سنورتا ہے لفظوں سے بگڑتا ہےIbraheem Hosh (1918–1988)
  11. مری نظر میں ہے انجام اس تعاقب کاجہاں بھی دوستی جاتی ہے دشمنی جائےIbraheem Hosh (1918–1988)
  12. یادوں نے لے لیا مجھے اپنے حصار میںمیرا وجود حافظہ بن کر سکڑ گیاIbraheem Hosh (1918–1988)