Poetry
- دریا میں ہے سراب عجب ابتلا میں ہوںمیں بھی حسین ہی کی طرح کربلا میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
- دیر و حرم میں دشت و بیابان و باغ میںڈھونڈو نہ مجھ کو میں ہوں خود اپنے سراغ میںIbraheem Hosh (1918–1988)
- میں وہ نہیں کہ زمانے سے بے عمل جاؤںمزاج پوچھ کے دار و رسن کا ٹل جاؤںIbraheem Hosh (1918–1988)
- آج زنداں میں اسے بھی لے گئےجو کبھی اک لفظ تک بولا نہیںIbraheem Hosh (1918–1988)
- ان ہزاروں میں اور آپ، یہ کیا؟آپ، جو ایک تھے ہزاروں میںIbraheem Hosh (1918–1988)
- جو چپ لگاؤں تو صحرا کی خامشی جاگےجو مسکراؤں تو آزردگی بھی شرمائےIbraheem Hosh (1918–1988)
- روتے روتے مرے ہنسنے پہ تعجب نہ کروہے وہی چیز مگر دوسرے انداز میں ہےIbraheem Hosh (1918–1988)
- طے کر کے دل کا زینہ وہ اک قطرہ خون کاپلکوں کی چھت تک آیا تو لیکن گرا نہیںIbraheem Hosh (1918–1988)
- کرتا ہوں ایک خواب کے مبہم نقوش یادجب سے کھلی ہے آنکھ اسی مشغلے میں ہوںIbraheem Hosh (1918–1988)
- لفظوں سے بنا انساں لفظوں ہی میں رہتا ہےلفظوں سے سنورتا ہے لفظوں سے بگڑتا ہےIbraheem Hosh (1918–1988)
- مری نظر میں ہے انجام اس تعاقب کاجہاں بھی دوستی جاتی ہے دشمنی جائےIbraheem Hosh (1918–1988)
- یادوں نے لے لیا مجھے اپنے حصار میںمیرا وجود حافظہ بن کر سکڑ گیاIbraheem Hosh (1918–1988)