Poetry
- تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہےدنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہےہجر ناظم علی خان
- ستم تیر نگاہ دل ربا تھاہمارے حق میں پیغام قضا تھاہجر ناظم علی خان
- شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہاکہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہاہجر ناظم علی خان
- کچھ محبت میں عجب شیوۂ دل دار رہامجھ سے انکار رہا غیر سے اقرار رہاہجر ناظم علی خان
- وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گاتو ماہتاب فلک کو حجاب آئے گاہجر ناظم علی خان
- وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوںکیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جیسا میں ہوںہجر ناظم علی خان
- دل فرقت حبیب میں دیوانہ ہو گیااک مجھ سے کیا جہان سے بیگانہ ہو گیاہجر ناظم علی خان
- مجھے فریب وفا دے کے دم میں لانا تھایہ ایک چال تھی ان کی یہ اک بہانا تھاہجر ناظم علی خان