Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. تم بھی نگاہ میں ہو عدو بھی نظر میں ہےدنیا ہمارے دیدۂ حسرت نگر میں ہےہجر ناظم علی خان
  2. ستم تیر نگاہ دل ربا تھاہمارے حق میں پیغام قضا تھاہجر ناظم علی خان
  3. شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہاکہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہاہجر ناظم علی خان
  4. کچھ محبت میں عجب شیوۂ دل دار رہامجھ سے انکار رہا غیر سے اقرار رہاہجر ناظم علی خان
  5. وہ شوخ بام پہ جب بے نقاب آئے گاتو ماہتاب فلک کو حجاب آئے گاہجر ناظم علی خان
  6. وہ یہ کہتے ہیں زمانے کی تمنا میں ہوںکیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جیسا میں ہوںہجر ناظم علی خان
  7. دل فرقت حبیب میں دیوانہ ہو گیااک مجھ سے کیا جہان سے بیگانہ ہو گیاہجر ناظم علی خان
  8. مجھے فریب وفا دے کے دم میں لانا تھایہ ایک چال تھی ان کی یہ اک بہانا تھاہجر ناظم علی خان